![]() |
| محمدثاب ساقی۔ | کالم نگار۔ |
یہ منظر سی پیک پنڈی گھیب کے چوراہے کا ہے جہاں برلب سڑک ایک ماں اپنے دو معصوم بچوں کو ایسے لیۓ بیٹھی تھی جیسے مرغی اپنے چوزوں کو پروں کے نیچے چھپاۓ بیٹھی ہو، جاڑے کی اس ٹھہٹھرتی صبح میں یوں ان کلیوں کو برسرِ راہ لا بٹھانا اس کے پیچھے ضرور حالات کا جبر ہو گا، گداگری اس کا پیشہ تھا یا مجبوری اس کی تہہ تک جاننے کی ۔کوشش نہیں کی البتہ منظر چیخ چیخ کا بتلا رہا ہے کہ یہ گردش دوراں کی ماری ایک ممتا ہے ۔
اس وقت وہ ماں آس پاس بکھرے استعمال شدہ شاپر، لیز کے پیکٹ، اور کاغذ اکھٹے کر کے اپنے بچوں کے لیے"مچ" جلانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی، رات بھر اوس پڑنے کی وجہ سے وہ کوڑا کرکٹ گیلا ہوا پڑا اور اس وقت یخ بستہ ہوا بھی چل رہی تھی، وہاں پر ایک بچی سڑک کے کنارے پڑے پتھر پر بیٹھی تھی، ماں تو آخر ماں ہے نا، وہاں بیٹھنے کے لیے اس ماں نے پتھر کے اوپر کپڑا بچھا رکھا تھا تاکہ وہ پتھر بچی کو ٹھنڈا نہ لگے، دوسری بچی جو غالباً شیر خوار تھی کو بغل گیر کیۓ سلگتے کوڑا کرکٹ کو "پھونکے" مار رہی تھی، جبکہ بڑی بچی اس اڑتے دھوئیں پر ہاتھ پھیلاۓ بیٹھی تھی، وہ ماں اس بیانیہ پر پورا اترتی دکھائی کہ ماں واقع بچوں کی جنت ہوتی ہے۔
اتنے میں ایک کار آتی دیکھائی دی، ماں جھٹ سے اٹھی، ہاتھ باندھے کھڑی ہوگئی،گاڑی کو اشارہ کیا، ہاتھ باندھے، بچوں کا واسطہ ڈالا مگر کار والے بدمست اپنے رنگ میں تھے، فراٹے بھرتی ، گرد اڑاتی کار "شاں " کر کے ادھر سے گزر گئی، دھول میں بہت سی کنکر بھی اڑے تھے جن سے بچنے کے لیے اس معصوم بچی نے منہ پر ہاتھ رکھ لیے، لیکن اس عورت کے لہجے کوئی مایوسی نظر نہیں آئی کیونکہ اس کا دن میں کئی بار ایسے "زور وروں" سے پالا پڑتا ہوگا۔
کیسا کرب ناک منظر تھا ، ایک ہی انسان کے کئی روپ تھے، جہاں انسان کی بے بسی اور حالات کی سنگ دلی عروج پر وہیں پر دولت کا نشہ بھی سینہ تانے نظر آ رہا تھا، یہ سب مالک کی اپنی تقسیم ہے، ایک ہی وقت میں کسی کی آزمائش ہورہی ہوتی تو کسی کا امتحان لیا جا رہا ہوتا، لیکن امید واثق کی یہ ماں اس آزمائش میں سرخرو ہوگی ۔ ان شاءاللہ۔

0 Comments