| محمد ثاقب ساقی | کالم نگار۔ |
سلامی جمہوریہ پاکستان کی تعمیر و ترقی کا ہر دور خون کا پیاسا ثابت ہوا ہے، آزادی سے لے کر اج دن تک ارضِ پاک کی بنیادوں کو خون سے سیراب کیا گیا ہے، آزادی کے وقت قربانیوں کے تمام تر واقعات تاریخ کے اوراق پر ثبت ہیں کہ کیسے اس وقت کے لوگوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے اس ملک کو ایک مقتدر ریاست بنانے/کہلانے میں اپنا کردار ادا کیا، لیکن ان عطیات کے پیچھے حقائق بہت ہی اندوناک اور سفاکیت کی تصویر پیش کرتے ہیں، ہر دور میں ملک کے خواص کی طرف سے عوام کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے، ہمیشہ غریب کے گلے پر چھری پھیری گئی، چھری بھی الٹی پھیری گئی تاکہ ان مفلوک الحال کی تڑپ والی قربانی درجہ قبولیت کو پہنچنے،
کہتے ہیں کہ اگر کسی درندے کے منہ کو خون لگ جاۓ تو وہ پہلے سے زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے، پھر وہ اپنی خون کی پیاس بھجانے کے لیے ہر چیز پر حملہ کرتا ہے، ملک پاکستان کے خواص بھی انہی درندوں کی مانند ہیں جن کے منہ کو غرباء کا خون لگ گیا ہے، اور یہ اس کو لگاتار چوس رہے ہیں
گزشتہ روز لاہور میں داتا دربار کے پاس ایک دلخراش واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ملک بالخصوص لاہور کی تعمیر و ترقی میں ایک ماں چوبیس سالہ سعدیہ نے اپنی نو ماہ کی شیرخوار کلی ردا سمیت جان کا نذرانہ پیش کیا، داتا دربار کے سامنے پرندہ مارکیٹ ہے جس کو اس کی تزئین وآرائش کے لیے مسمار کر دیا گیا ہے، سیوریج لائن کو ازسرنو تعمیر کیا جا رہا ہے، تعمیرات کے حوالے سے جتنے بھی قاعدے قلیے ہیں ان سب کو یکسر نظرانداز کیا گیا ہے، (قواعد ضوابط کے مطابق جہاں پر بھی تعمیرات کا کام جاری ہو اور بالخصوص شہری علاقے میں وہاں پر اس ایریا میں مکمل سبز رنگ کی برزنت(ترپال) لگائی جاتی ہے، رات کے اوقات میں سفر کرنے والوں کے لیے چمکیلی پٹی لگائی جاتی ہے، مختلف قسم کے بورڈ آویزاں کیے جاتے ہیں ) مین ہول کھلے تھے نہ ہی کوئی ساتھ میں پٹی وغیرہ باندھی گئی تھی،
شورکوٹ سے تعلق رکھنے والی سعدیہ اپنے خاندان کے ساتھ لاہور میں زیارات کے لیے آئی تھی، دن بھر لاہور کے مضافات میں گھومنے پھرنے کے بعد داتا دربار پر حاضری دینے آۓ، ساڑھے سات کے قریب داتا صاحب پر حاضری کے بعد باہر نکلے، ماں بیٹی رکشے پر سوار ہونے کی خاطر لپکیں تو سڑک کے کنارے بنے مین ہول میں گر گئی، جس کی چوڑائی ایک میٹر اور گہرائی تقریباً پانچ میٹر کے قریب تھی، اس حادثے سے بڑا سانحہ یہ تھا کہ متاثرہ خاندان کا کوئی پرسان حال تھا، معصوم ردا کا والد چیخ چیخ پکار رہا تھا کہ اس کی بیوی اور بیٹی گر گئے ہیں مگر بے حس ادراروں کی کالی بھیڑیں یہ ماننے کو تیار نہیں تھی،پہلے تو ریسکیو کی ٹیم تاخیر سے پہنچی پھر قریب بیس پچیس منٹ تک آپریشن ہی شروع نہ ہوسکا، یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ واقعہ اندرونِ لاہور پیش آیا ہے کہیں کسی دور دراز دیہات میں نہیں جہاں ریسکیو کو پہنچنے میں وقت لگ سکتا تھا،
پنجاب "پلس" تو تشریف لاتے ہی متاثرہ خاندان پر چڑھ دوڑی کہ ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہی نہیں ہے، اندھیر نگری کی حد دیکھیں کہ پولیس اس ماں بچی کے ورثاء کو گرفتار کر لیتی ہے اور حبسِ بے جاہ میں رکھ کر یہ بیان دلوانے کی کوشش کرتی ہے یہ واقعہ خود کشی کے مترادف پیش کریں، خیر میڈیا کی آمد کے بعد پولیس نے اپنا بیانیہ تبدیل کر لیا، چونکہ یہ حادثہ سیوریج لائن کے متعلقہ تھا تو اس واقعے میں سب سے اہم ذمہ داری محکمہ واسا کی تھی جس کے نمائندگان حادثے کے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے بعد تشریف لاۓ، پھر باقاعدہ آپریشن شروع کیا گیا، رات کے ڈیڑھ بجے سعدیہ کی لاش لاہور کے ایک نواحی علاقے سے ملی اور نو ماہ کی معصوم ردا کی لاش سگھیاں کے پاس ملی،
اس المناک سانحہے کے بعد ادارے ہوش میں آۓ اور رات کھلے مین ہولز پر حفاظتی ڈھکن بھی لگاۓ اور تعمیراتی علاقے کے اردگرد سبز ترپال بھی لگا دی گئی یہ ایسا ہی تھا جیسے خودکش حملے کے بعد سیکورٹی ادارے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں لیکن جن دو معصوم جانو کا زیاں ہوا ہے وہ کس کھاتے گیا، اگلے روز یہ خبر جب جنگل میں اگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی تو وزیرِ اعلیٰ کی طرف سے متعلقہ محکموں سے پوچھ گچھ کی کچہری بھی لگائی گئی جس میں مختلف سربراہان کی شرزنش کی گئی اور دیئت کے طور پر ایک کروڑ روپے اور ایک گاڑی متاثرہ خاندان کو دینے کا اعلان کیا گیا، مختلف لوگوں کی گرفتاری کا حکم بھی جاری ہوا،
یہ خواص کی جانب سے عوام کو ایک مرتبہ پھر الو بنایا گیا ہے، پرندہ مارکیٹ سج سنور کے تیار ہو جائے گی، مگر معصوم ردا اور سعدیہ کا خون رائگاں ہی جاۓ گا، کیونکہ یہ سب کاغذی کاروائی اور ویڈیو کی حد تک ہی ہے اس سے آگے کچھ نہیں،
اور اگر کچھ ہو بھی جائے تو کیا یہ سب اس معصوم ردا کی ایک مسکراہٹ کے برابر بھی ہو سکتا ہے؟
0 Comments