بلدیاتی نمائندوں کا قصور نہیں۔

سجاداحمدشاہ کاظمی | کالم نگار ، صحافی 

خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی نمائندے باقاعدہ طور پر منتخب تو ہوئے، مگر وہ اپنی چار سالہ آئینی مدت کے دوران اپنے بنیادی حق یعنی فنڈز اور اختیارات کے انتظار میں ہی رخصت ہو رہے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر زیادہ تر تنقید انہی بلدیاتی نمائندوں پر کی جا رہی ہے، جبکہ یہ امر مسلسل نظر انداز کیا گیا کہ وہ پورے عرصے میں صوبائی حکومت کی جانب دیکھتے رہے، مگر نہ انہیں وسائل دیے گئے اور نہ فیصلہ سازی کا اختیار۔ سوال یہ ہے کہ فنڈز اور اختیارات کے بغیر کوئی بھی منتخب نمائندہ آخر کارکردگی کیسے دکھا سکتا ہے؟

اس صورتحال نے ایک سنگین احتسابی خلا (Accountability Gap) کو جنم دیا ہے۔ عوام نے ووٹ بلدیاتی نمائندوں کو دیا، جوابدہی بھی انہی سے مانگی، مگر اختیار اور وسائل صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کے پاس رہے۔ یوں جمہوریت کا بنیادی اصول اختیار اور جوابدہی کا باہمی تعلق عملاً معطل ہو کر رہ گیا۔

اگر اس ناکامی کو صوبائی حکومت کی سیاسی ترجیحات کے تناظر میں دیکھا جائے تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ یہ سمجھنا اور سمجھانا ناگزیر ہے کہ بلدیاتی نظام کی اس ناکامی کی ذمہ داری منتخب نمائندوں پر نہیں بلکہ صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے، جسے اس معاملے پر عوام کے سامنے واضح اور دوٹوک جواب دینا چاہیے۔

سوال یہ ہے کہ بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز کیوں نہ مل سکے؟ اگرچہ صوبائی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی جامع وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم حقائق خود اپنی کہانی بیان کرتے ہیں۔ ترقیاتی فنڈز کو بلدیاتی اداروں کے بجائے صوبائی محکموں اور اراکینِ صوبائی اسمبلی کے ذریعے خرچ کرنے کو ترجیح دی گئی۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں بار بار ترامیم کی گئیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف اختیارات محدود ہوئے بلکہ فنڈز کے اجرا کا طریقہ کار بھی مبہم بنا دیا گیا۔ مالی وسائل کو ڈپٹی کمشنرز اور لائن ڈیپارٹمنٹس کے کنٹرول میں رکھا گیا، جس سے منتخب بلدیاتی نمائندے محض بے اختیار اور لاچار ہو کر رہ گئے۔

یہ طرزِ حکمرانی دراصل عوامی نمائندگی کے مقابلے میں بیوروکریسی کو فوقیت دینے کا تسلسل ہے ‘ ایک ایسا نوآبادیاتی ماڈل جس میں فائل طاقتور اور ووٹ کمزور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلدیاتی ادارے عوامی خدمت کے بجائے بے بسی اور محرومی کی علامت بنتے چلے گئے۔

بلدیاتی نظام کسی بھی جمہوریت کی سیاسی نرسری ہوتا ہے۔ یہی وہ سطح ہے جہاں سے نوجوان قیادت ابھرتی ہے، جہاں سیاست خدمت کے ذریعے سیکھی جاتی ہے۔ خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی اداروں کو مفلوج کر کے درحقیقت مستقبل کی قیادت، نوجوان سیاست اور عوامی شمولیت کے دروازے بند کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ سیاست دوبارہ چند چہروں تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔

اس پورے عمل نے شہری و دیہی عدم مساوات کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ شہری علاقوں میں کسی حد تک سروس ڈیلیوری موجود رہی، مگر دیہی اور دور دراز علاقوں میں ترقی تقریباً رک گئی۔ مقامی حکومتوں کی غیر فعالیت نے ریاستی محرومی کے احساس کو گہرا کیا، جو کسی بھی حکومت کے لیے خطرناک علامت ہوتی ہے۔

اگر کہیں سڑکیں تعمیر نہ ہو سکیں، گلیوں کی پختگی ممکن نہ ہو پائی، پانی و بجلی کے مسائل حل نہ ہو سکے، نکاسیٔ آب کا نظام متاثر ہوا یا مقامی سطح پر کیے گئے وعدے پورے نہ ہو سکے تو اس کی بنیادی وجہ ایک ہی ہے: صوبائی حکومت کی وہ پالیسی ترجیحات جن میں عوامی مفاد کے بجائے سیاسی کنٹرول کو فوقیت دی گئی۔

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 140-A صوبائی حکومتوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ ایک با اختیار، خود مختار اور فعال بلدیاتی نظام قائم کریں اور سیاسی، انتظامی و مالی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کریں۔ خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی فنڈز کی عدم فراہمی اور اختیارات کی محدودیت اس آئینی حکم سے صریح انحراف کے مترادف ہے، ایک ایسا انحراف جس پر اعلیٰ عدلیہ متعدد مواقع پر اپنی تشویش کا اظہار بھی کر چکی ہے۔

اس دوران صوبائی حکومت کی سیاسی ترجیحات انتظامی ذمہ داریوں پر غالب رہیں۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال میں احتجاج، دھرنوں اور سیاسی دباؤ کو ترجیح دی گئی۔ اس عمل میں صوبائی سرکاری مشینری، افرادی قوت اور مالی وسائل کا نمایاں حصہ استعمال ہوا ‘ جس کے شواہد ریکارڈ پر موجود ہیں۔ خیبر پختونخواہ کے مختلف اضلاع کی سرکاری مشینری کا اسلام آباد میں استعمال، اس کی ضبطگی اور بعد ازاں وفاقی کارروائیاں اسی حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں۔

سیاسی جماعتوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے، مگر ایک منتخب صوبائی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی خدمات، ترقیاتی منصوبوں اور بلدیاتی نظام کو یرغمال نہ بنائے۔ بدقسمتی سے عملی طور پر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیا۔

دنیا بھر میں مؤثر لوکل گورنمنٹ سسٹمز اس بات کی مثال ہیں کہ مقامی حکومتیں مالی اور انتظامی طور پر خودمختار ہوتی ہیں، اور بغیر قانونی جواز کے ان کے فنڈز روکے نہیں جا سکتے۔ ریاستی وسائل غیرجانبدار رہتے ہیں اور عوامی مفاد میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس خیبر پختونخواہ میں منتخب بلدیاتی نمائندوں کو بے اختیار بنا کر، ریاستی وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر کے اور بیوروکریسی کے ذریعے حکمرانی کو طاقت کی سیاست میں بدل کر جمہوری اقدار کو کمزور کیا گیا۔

حتمی بات یہ کہ؛

اگر صوبائی حکومت واقعی جمہوریت، عوامی شراکت اور نچلی سطح پر ترقی پر یقین رکھتی ہے تو اسے بلدیاتی اداروں کو مالی، انتظامی اور سیاسی طور پر بااختیار بنانا ہوگا، بلدیاتی فنڈز کو آئینی تحفظ دینا ہوگا اور ریاستی وسائل کو سیاست سے الگ کرنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر تاریخ یہی گواہی دے گی کہ خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی نظام محض ناکام نہیں ہوا، بلکہ اسے شعوری طور پر ناکام بنایا گیا اور اس ناکامی کا بوجھ بلا وجہ ان نمائندوں پر ڈال دیا گیا جن کا اصل قصور صرف یہ تھا کہ وہ عوام کے ووٹ سے منتخب ہوئے تھے، مگر اختیار کے بغیر۔

اپنا کالم شائع کروانے کیلئے کلک کریں۔

Post a Comment

0 Comments