حُکم ، حاکم ، ہجوم اور جمہوریت

سجاداحمدشاہ کاظمی || کالم نگار ، صحافی۔

گزشتہ بلدیاتی انتخابات کے دوران اسلام آباد سے سفر کر کے مانسہرہ کے ایک دور دراز گاؤں میں ووٹ کاسٹ کرنے پہنچا۔ پولنگ اسٹیشن کے گرد عوام کا ہجوم، انٹری پوائنٹ پر دھینگا مشتی، دھکم پیل اور شور و غل دیکھ کر کچھ دیر فاصلے پر بیٹھ کر تماشا دیکھتا رہا کہ ووٹ لینے والے، ووٹ دینے والوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے زور لگا رہے تھے۔ وقفے وقفے سے شور اٹھتا، سیکیورٹی اہلکار لوگوں کو ہانکتے، امیدوار اونچی جگہوں پر کھڑے ہو کر نعرے لگاتے۔ ووٹنگ کا عمل بار بار رکتا اور پھر شروع ہوتا تو وہی شور، وہی بدنظمی، وہی تماشا۔ خدشہ تھا کہ کہیں انتظار کرتے کرتے ووٹ کاسٹ کرنے کا موقع ہی نہ گنوا بیٹھوں۔

آخرکار میں بھی ہجوم میں گھس گیا۔ دھکے، شور اور بے ترتیبی کے درمیان کھڑا تھا کہ ایک امیدوار نے اونچے ڈائس پر کھڑے ہو کر منادی کے انداز میں چیخ کر حکم دیا

"سب لوگ نیچے بیٹھ جاؤ!"

نیچے بیٹھ جاؤں؟

کیوں؟ کہاں؟ اور کیسے؟

نیچے دیکھا تو گرد آلود مٹی، گندگی اور کچرا تھا ، ایسی جگہ جہاں گدھا بھی بیٹھنے سے انکار کر دے۔ مگر لوگ بیٹھ چکے تھے۔ پھر اوپر دیکھا، اس امیدوار کی طرف جو حکم صادر کر رہا تھا۔ صبر جواب دے گیا۔ ووٹ ڈالنے کا ارادہ ترک  !   ! کرتے ہوئے کہا

"ہم نیچے بیٹھ جائیں، کیوں؟

تم ممبر پر چڑھ کر حکم سناتے رہو، کیوں؟

ووٹ ہم نے دینا ہے، ممبر تم نے بننا ہے، ہم گرد و غبار میں لپٹ کر تمہیں ووٹ دیں ، یہ تصور تم نے کیسے کر لیا؟"

یہ ایک عملی تجربہ تھا جس نے سیاسی رہنماؤں کی اندھی پیروی سے باز رہنے پر مجبور کیا۔ سوچ یکسر بدل گئی ، یہ طے ہو گیا کہ ووٹ کسی قوم، قبیلے یا مسلک کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف ڈاؤن ٹو ارتھ امیدوار کی امانت ہے۔ اگر کوئی ووٹ مانگے تو میرے پاس اب صرف ایک سادہ سوال ہے۔

 "کیوں؟"

یہ واقعہ محض ایک کہانی نہیں بلکہ ووٹ لینے والوں اور ووٹ دینے والوں کی ذہنی خلیج، سیاسی تربیت کی کمی، تکبر، اور عوامی بے حسی کی عکاسی ہے۔ ہمارے ہاں سیاست جمہوریت کے اصولوں کے تابع نہیں، اور نہ ہی عام آدمی کو اس کے سیاسی حقوق کا شعور دیا گیا ہے۔ نعرے لگانے کے لیے سب تیار ہیں، مگر سوچنے کی زحمت کوئی نہیں کرتا۔

سیاسی نظریات کا دفاع دلیل کے بجائے گالی سے کیا جاتا ہے۔ گالی کو ہتھیار بنا کر ناقدین کو خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے، اور یوں معاشرہ رفتہ رفتہ انتشار اور فساد کا گہوارہ بن جاتا ہے۔

تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ:ـ 

جمہوریت کسی دن اچانک نہیں مرتی، اسے آہستہ آہستہ قتل کیا جاتا ہے، جب عوام سوال پوچھنا چھوڑ دیتے ہیں، جب ووٹ ذمہ داری کے بجائے غلامی بن جاتا ہے، اور جب لیڈر خود کو خادم کے بجائے حاکم سمجھنے لگتے ہیں، تو جمہوریت مر جاتی ہے۔ پھر جمہوریت کی بحالی نعروں سے نہیں بلکہ شعور سے ممکن ہے؛ اُس دن جب عوام یہ ماننے لگیں کہ ووٹ احسان نہیں، حق ہے، اور حق مانگا نہیں جاتا بلکہ استعمال کیا جاتا ہے، تب جمہوریت بحال ہونے لگے گی۔ جب تک ہم نیچے بیٹھنے کے عادی رہیں گے، کوئی نہ کوئی ممبر پر کھڑا ہو کر ہمیں حکم دیتا رہے گا ، تب تک جمہوریت کی نعش پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔

اپنا کالم شائع کروانے کیلئے کلک کریں۔

Post a Comment

0 Comments