تحریک انصاف : سولا برسوں میں نام بدلا تقدیر نہیں بدلی۔

سجاداحمدشاہ کاظمی||کالم نگار ، صحافی

’’حقیقت نامہ‘‘

ممکن ہوتا تو میں سہیل آفریدی کی انگلی پکڑ کر اُس اسکول میں لے جاتا جہاں ایک کمرے کی عمارت میں بچوں کے بجائے جانوروں کا چارہ بھرے بورے رکھے ہیں۔ جہاں استاد سال میں تین مرتبہ پورے سال کی حاضری لگانے آتا ہے۔ جہاں اسکول کی واحد عمارت گزشتہ پانچ برس سے ادھوری پڑی ہے، نہ کھڑکیاں ہیں، نہ دروازے، نہ فرش۔ بچوں کے بیٹھنے کے لیے ٹاٹ میسر ہیں اور نہ استاد کے لیے کرسی۔
 
ممکن ہے اُس اسکول کی حالت دیکھ کر سہیل آفریدی کا سر شرم سے جھک جاتا، لیکن مجھے زیادہ توقع اُن پی ٹی آئی کارکنوں سے تھی جو خود کو خان کے بانٹے ہوئے شعور سے آراستہ سمجھتے ہیں۔ توقع یہ تھی کہ وہ یہ بنیادی سوال ضرور اٹھائیں گے کہ 2013 سے 2026 تک، نام کی تبدیلی کے سوا، خیبر پختونخوا میں آخر بدلا کیا ہے؟
 
خیبر پختونخوا جب شمال مغربی سرحدی صوبہ کہلاتا تھا، تب سے لے کر آج تک پی ٹی آئی ایک نظریاتی تسلسل کے ساتھ اس صوبے میں برسرِ اقتدار رہی ہے۔ وزرائے اعلیٰ بدلتے رہے، مگر صوبہ نہیں بدلا۔ البتہ صوبے کا نام ضرور بدلا، اور یہی وہ تبدیلی ہے جس نے یہاں قومی اور لسانی تعصبات کو مزید ہوا دی۔
 
شمال مغربی سرحدی صوبہ پشتو، ہندکو، گوجری، کوہستانی اور دیگر زبانیں بولنے والے تمام باشندوں کا مشترکہ صوبہ تھا، جہاں ہر قوم اپنے حقوق کے حوالے سے ایک حد تک تحفظ محسوس کرتی تھی۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ پشتونوں کے سوا دیگر قومیتیں خود کو عدم تحفظ کا شکار سمجھتی ہیں۔
 
خصوصاً ہزارہ قوم کے ساتھ اس طویل حکمرانی کے دوران مسلسل زیادتیاں کی گئیں۔ پشتون وزرائے اعلیٰ نے ہزارہ ڈویژن کے وسائل تو استعمال کیے، مگر ہزارہ کو اس کا حق نہ دیا۔ سہیل آفریدی کا ہزارہ کا رخ بھی مسائل کے حل کے لیے نہیں تھا بلکہ فاشزم کی ترویج، اسٹریٹ موومنٹ کے نام پر اشتعال انگیزی، اور عوام کو سیاسی مقاصد کے لیے بطور چارہ استعمال کرنے کی ایک کڑی تھا۔
 
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ وہ نوجوان جنہیں سوال پوچھنا چاہیے تھا، نعرے لگاتے رہے۔ اگرچہ ان کا قصور بھی مکمل نہیں، کیونکہ وہ خود حقائق سے لاعلم اور اندھی سیاسی تقلید کے اسیر ہیں۔ اس کے باوجود ہماری کوشش ہے کہ چند بنیادی حقائق سامنے لا کر شاید بند ذہنوں پر پڑے زنگ آلود قفل کھل سکیں، اور سوال اٹھانے کا شعور بیدار ہو۔ ایسا شعور جو کسی شخصیت، فاشسٹ جماعت یا پاپولسٹ لیڈر کے بجائے اجتماعی عوامی اور قومی مفادات کے لیے مقتدر قوتوں کے سامنے سوال بن کر کھڑا ہونے کی طاقت دیتا ہے۔
 
ایک عام شہری کی سیاست کا مقصد کسی جماعت کا اقتدار نہیں بلکہ عوامی فلاح اور قومی ترقی ہونا چاہیے۔ جب ہم اس زاویے سے سوچیں گے تو گزشتہ سولہ برسوں میں خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی اور عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا درست اندازہ ہو سکے گا۔
 
آئیے اب سولہ سالہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں۔
 
"اگر سولہ برسوں کی حکمرانی کے بعد بھی ایک اسکول میں دروازہ، فرش اور استاد کی کرسی میسر نہ ہو، تو مسئلہ بجٹ کا نہیں، نیت اور ترجیحات کا ہوتا ہے۔ اور یہی ناکام حکمرانی کی اصل پہچان ہے۔"
 
صوبائی حکومتی ویب سائٹس اور سیاسی دعوؤں کے مطابق تعلیم کے لیے بھاری بجٹ مختص کیا گیا اور اصلاحات کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر واقعی بجٹ اور اصلاحات موجود تھیں تو تعلیمی کارکردگی میں بہتری کیوں نہ آ سکی؟
 
صحت کے شعبے میں بھی اصلاحات کے دعوے کیے گئے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں کی حالت قابلِ رحم ہے۔ پنجاب کے مقابلے میں سہولیات اور علاج کا معیار کہیں کمزور ہے۔ اگر بجٹ مختص ہوا اور اصلاحات کی گئیں تو ان کے نتائج عوام کو کیوں نظر نہیں آتے؟
 
انفراسٹرکچر کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات اُن منصوبوں کا حوالہ دیتے ہیں جو یا تو پی ٹی آئی سے قبل مکمل ہوئے یا قیامِ پاکستان سے پہلے کے ہیں، مگر سولہ برسوں میں مکمل ہونے والا کوئی نمایاں منصوبہ زمینی حقیقت کے طور پر دکھانے سے قاصر ہیں۔ جو منصوبے شروع کیے گئے، ان میں اوور بلنگ اور کرپشن کی داستانیں سرکاری ریکارڈ اور میڈیا رپورٹس کا حصہ ہیں۔
 
اگر سولا برسوں میں ایک سکول میں کھڑکی ،دروازہ، فرش نہیں ، بچوں کے لئے چٹائی اور استاد کے بیٹھنے کے لئے کرسی نہیں تو یہ مسئلا بجٹ کا نہیں ترجیعات کا ہے۔ ریاست کی سنجیدگی کا اندازہ دعووں اور نعروں سے نہیں زمینی حقائق سے لگایا جاتا ہے۔ 
یہ کونسی تعلیمی اصلاحات ہیں؟

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2013 کے بعد خیبر پختونخوا میں 54 ارب روپے کے 46 منصوبے منظور ہوئے، مگر چند ایک کے سوا کوئی منصوبہ عملی صورت میں نظر نہیں آتا۔
 
پولیس اصلاحات اور دیگر شعبوں کے دعوے بھی محض دعوؤں تک محدود رہے۔ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس کے مطابق خیبر پختونخوا آج بھی پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے پیچھے ہے۔ شرحِ خواندگی 51 فیصد ہے، جبکہ 2012 میں یہ شرح 56 فیصد تھی۔
 
اقتصادی نمو، صنعتی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کے لحاظ سے بھی صوبہ سندھ اور پنجاب سے بہت پیچھے ہے۔ سوال یہ ہے کہ سولہ سالہ اقتدار کے باوجود خیبر پختونخوا ہر تقابلی جائزے میں تیسرے یا چوتھے نمبر پر کیوں آتا ہے؟ پہلا یا دوسرا کیوں نہیں؟
 
تحریک انصاف سے وابستہ افراد اگر اس کی وجہ جاننا چاہتے ہیں تو غیرجانبدار تحقیق کر لیں۔ ہماری تحقیق، جو سرکاری اعداد و شمار، زمینی حقائق اور میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے، یہ بتاتی ہے کہ پی ٹی آئی کا خیبر پختونخوا میں ویژن عوامی ریلیف اور اجتماعی ترقی نہیں بلکہ فاشزم، گالم گلوچ، سیاسی اشتعال، سرکاری وسائل کا ضیاع اور نوجوانوں کو گمراہی میں مبتلا کر کے اقتدار سے چمٹے رہنا ہے۔
 
عمران خان کی قید اور ان کی رہائی کی جدوجہد ایک خالص سیاسی اور جماعتی مسئلہ ہے، جس کا عوامی مسائل سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ مگر گزشتہ تین برسوں سے خیبر پختونخوا کے سرکاری وسائل عمران خان کی رہائی کے لیے نکالی جانے والی ریلیوں، دھرنوں اور جلسوں پر بے دریغ خرچ کیے جا رہے ہیں۔ عوامی ٹیکس سے جمع ہونے والی رقم کو عوامی فلاح کے بجائے ایک فرد کی رہائی پر خرچ کرنے کا آخر کیا جواز ہے؟
 
یہ وہ چند بنیادی حقائق ہیں جن کی روشنی میں کسی سیاسی اسٹریٹ موومنٹ کی غیرمشروط حمایت محض حماقت ہی قرار دی جا سکتی ہے۔ جو جماعت عوامی فلاح اور مجموعی ترقی کے بجائے کسی ایک شخص کے گرد گھومتی ہو، اس سے مسائل کے حل کی امید رکھنا خود فریبی ہے۔ اور جو حکومت بہتری کی امید بھی ختم کر دے، وہ عوامی حمایت کا اخلاقی جواز بھی کھو بیٹھتی ہے۔

Post a Comment

0 Comments