![]() |
| محمدثاقب ساقی||کالم نگار۔ |
وہ رات قیامتِ کبریٰ کا نظارہ پیش کرتی ایک قیامت صغری تھی جہاں سینکڑوں انسان کربناک قسم کے جان کنی کے امتحان میں تھے۔ کسی کے پاؤں آگ کی لپیٹ میں تھے تو کسی کے ہاتھ جل رہے تھے۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ آگ کے شعلے ان کی زندگی کا چراغ گل کرنے کے درپے تھے۔ گھپ اندھیرے میں گھٹی گھٹی آہیں، دردناک چیخیں ماحول کو مزید ۔۔۔۔کربناک بنا رہیں تھیں اس وقت ان بے یار و مدگار لوگوں کی پہلی خواہش سانس کا نکلنا تھا۔
اس منظر کے برعکس انہی لمحوں میں کہیں پر رنگ برنگے برقی قمقموں کی چکا چوند تھی، گہری رات دن کا سماں پیش کر رہی تھی، جوان دوشیزاؤں کی کھلکھلاہٹ اور شوخ اٹکھیلیاں فضا میں گونج رہی تھیں، سر و تال ماحول کو مزید دوام بخش رہے تھے، شباب و کباب کی رنگین محفل اپنے اوج پر تھی، خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے تھے مگر اصل میں یہ شادیانے خوشی کے نہیں بلکہ ان جسموں کا ماتم تھے جو اس وقت گل پلازہ میں سلگ رہے تھے ۔
گل پلازہ میں آگ "بھڑکاۓ" جانے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ دس بج کر دس منٹ پر بھڑکائی گئی، یہ وقت اس لیے مختص کیا گیا کہ رات دس بجے کے بعد پلازہ کے دو دروازوں کے علاوہ تمام دروازے بند کر دیے جاتے تھے، بعض گردش کرتے مواد کے مطابق پلازے میں موجود پانی کی پائپ لائن کو کاٹ دیا گیا تھا، باقی آگ بجھانے والا سسٹم تو سرے سے تھا ہی نہیں، فائر بریگیڈ کی ایک ہی گاڑی اور اس کی دیر سے آمد سے بھی کئی ایک سوالات جنم لے رہے ہیں، یہ سب اور مزید بہت سی معلومات نجی طور پر گردش میں ہیں سرکاری طور پر تو ابتدائی طور پر یہ سانحہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوا مزید تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دی گئی ہے
یاد رکھیں انسانیت کے حوالے تمام تر عوامل عوام کے لیے ہوتے ہیں، یہی عوامل خواص کی ذمہ داری اور فرائض میں شامل ہوتے ہیں، مگر ہمارے خواص اس وقت "ٹُن" ہوۓ پڑے تھے، گل پلازے کی اڑتی ہوئی راکھ ہمارے معاشرے اور خواص کے اقدار کو جھنجوڑ رہی ہے مگر بے سود۔

0 Comments