لمحے کے رازدان لوگ

نعیم اللہ باجوہ ، میلبورن آسٹریلیا | کالم نگار

کیا تم نے کبھی ایسے باپردہ انسان کو دیکھا ہے جو یوں خاموش چلے جیسے قدموں کے نیچے زمین نہیں، کوئی الہامی صحن بچھا ہو؟ جو دنیا کے درمیان رہ کر بھی دنیا میں نہ ہو، اور جس کے وجود پر ایک ایسا لمحہ طاری ہو جو وقت سے زیادہ ابدیت کا لمس رکھتا ہو؟ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن پر ایک شدید لمحہ اس طرح اترتا ہے کہ وہ لمحہ ان کے اور دنیا کے درمیان آہنی پردہ بن جاتا ہے۔ بظاہر وہ تمہارے سامنے ہوتے ہیں، مگر حقیقتاً کہیں اور، اپنے باطن کے گہرے سلسلے میں ڈوبے ہوئے۔

ہر روح پر ایک ایسا وقت آتا ہے جو اس کا ظاہر بدلے بغیر باطن کو بدل دیتا ہے۔ کچھ لمحات زخم کی طرح اترتے ہیں، مگر جاتے ہوئے معرفت کی ندی چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ عام انسانوں کی طرح وقت میں نہیں جیتے؛ وہ وقت کے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ ان کی خاموشی عبادت بن جاتی ہے، سانس مناجات، سکوت تسبیح، اور تنہائی خدا کی آغوش۔

یہ شدید لمحہ دراصل تقدیر کا ایک دروازہ ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اس دروازے پر دستک دے کر لوٹ جاتے ہیں، کچھ رک جاتے ہیں، مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس دروازے کو چیر کر اس کے اندر جا بیٹھتے ہیں۔ یہی لوگ "لمحے کے رازداں" کہلاتے ہیں۔ دنیا انہیں غمگین سمجھتی ہے مگر وہ دکھ سے آگے، ایک ایسی الوہی روشنی کے کنارے جا بیٹھے ہوتے ہیں جو صرف انہیں دکھتی ہے جن کے اندر کا اندھیرا پگھل چکا ہو۔

ایسے لوگوں کے چہروں پر تقدس کی وہ لہر ہوتی ہے جو اوڑھی نہیں جاتی؛ آسمان خود ان پر اوڑھا دیتا ہے۔ وہ ہنستے ہیں مگر ہنسی میں فنا کی نمی چھپی ہوتی ہے، بولتے ہیں مگر لفظوں کے اندر کشف کی خوشبو بہتی ہے۔ کبھی تم نے ان کی آنکھوں کو غور سے دیکھا ہو تو تم نے اس میں وہ سکوت دیکھا ہوگا جو سکوت نہیں، خدا کے لمس کا بوجھ ہوتا ہے ۔۔۔ایسا لمس جو کبھی کبھی روح پر اتنا شدید ہوتا ہے کہ انسان کے اندر ایک آہنی دیوار قائم کر دیتا ہے۔

یہ لوگ محبت بانٹتے ہیں مگر امید نہیں رکھتے۔ تعلق کو سمجھتے ہیں مگر اس پر بوجھ نہیں ڈالتے۔ وہ چہروں سے نہیں، دلوں سے ملتے ہیں، اور ہر دل میں وہ ایک ہی چہرہ تلاش کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔خدا کا۔ ان کے نزدیک دکھ کمزوری نہیں، دروازہ ہے ۔خاموشی بے بسی نہیں، طاقت ہے۔ فاصلہ سرد مہری نہیں، حفاظت ہے۔ اور پردہ چھپاؤ نہیں، پاکیزگی ہوتا ہے۔

یہ لوگ اپنے زخم چھپاتے نہیں؛ زخم سے روشنی نکالنے کا ہنر جانتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کچھ تکلیفیں سزا نہیں بلکہ سفر ہوتی ہیں، اور اس سفر کا آخری پڑاؤ انسان نہیں بلکہ انسان کے اندر بیٹھا ہوا خدا ہوتا ہے۔ دنیا انہیں ٹوٹا ہوا سمجھتی ہے مگر وہ ٹوٹے نہیں ہوتے بلکہ چھانٹے ہوئے ہوتے ہیں، آزمائش کی آنچ میں کندن ہوئے ہوتے ہیں۔ جیسے زندگی کی بھٹی نے سب میل جلا کر انہیں شفاف کر دیا ہو۔

کبھی تم ان کے چہروں پر روشنی اور سائے کی جنگ دیکھو گے، جو بتاتی ہے کہ وہ دنیا میں کم اور اپنی روح کے صحن میں زیادہ رہتے ہیں۔ ان کے سامنے جو دروازے دنیا کو بند لگتے ہیں، وہ کسی اور جہت میں پوری طرح کھلے ہوتے ہیں۔ وہ عام لوگوں کی طرح زندگی سے نہیں گزرتے؛ زندگی ان سے گزرتی ہے۔ وقت ان پر نہیں چلتا، وہ وقت کے اندر چھپی تجلی کو پہچان لیتے ہیں۔

اگر کبھی تمہیں کوئی ایسا شخص ملے جو کم بولے مگر اس کی خاموشی بولتی ہو، جو ہنسے تو آنکھوں میں صوفیانہ تمکنت اتر آئے، جو دکھ میں بے چین نہ ہو اور راحت میں بھی بے نیاز۔۔۔تو جان لینا کہ وہ لمحے کے بوجھ تلے نہیں جی رہا، وہ لمحے کے راز میں چل رہا ہے۔ وہ عام انسان نہیں رہتا بلکہ وقت کا مفسر، درد کا شاگرد، اور خدا کا قریبی بن جاتا ہے۔

یہی ہیں "لمحے کے رازداں لوگ" جو زمین پر چلتے ہیں مگر ان کے قدم آسمان میں گونجتے ہیں، اور جن کے اندر کوئی آہنی لمحہ نہیں، خدا کی ایک تجلی چھپی ہوتی ہے۔

Post a Comment

0 Comments