![]() |
| سجاداحمدشاہ کاظمی|کالم نگار ، صحافی |
سفارتکاری ایک ایسا عمل ہے جس کا مقصد قومی مفادات کا تحفظ، کشیدگی سے بچاؤ اور تنازعات کا بات چیت کے ذریعے مثبت اور موثر حل ہوتا ہے۔ لیکن صرف کوششیں کرنا کافی نہیں، بلکہ جب ان کوششوں کے نتائج مثبت ہوں تب ہی انہیں کامیاب سفارتکاری کا اعزاز دیا جاتا ہے۔ محض بات چیت اور دورے کرنا سفارتکاری کی کامیابی نہیں، بلکہ اس کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ قومی مفادات محفوظ رہیں اور تعلقات متوازن رہیں۔ اگر مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کے توازن کو برقرار رکھنے میں ناکامی ہو جائے تو نہ صرف قومی مفادات خطرے میں پڑتے ہیں بلکہ ملک مشکل وقت میں تنہا بھی رہ سکتا ہے۔ اس کی زندہ مثال حالیہ پاک بھارت تنازعات کے بعد بھارت کی ناکام سفارتکاری ہے۔
اس پس منظر میں حالیہ حکومت کی سفارتی پالیسی پر تنقید کی جا سکتی ہے، لیکن افغانستان کے ساتھ ناکام مذاکرات اور بڑھتے تنازعات کو بنیاد بنا کر پوری سفارتی پالیسی کو مکمل طور پر ناکام یا قومی مفادات کے خلاف قرار دینا درست نہیں، کیونکہ بھارت، افغانستان اور اسرائیل کے علاوہ موجودہ حکومت نے بیشتر ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ اس لیے بے جا تنقید اور دشمن کا بیانیہ چلانے والوں کی حمایت یافتہ حکومت کی سفارتکاری کا تجزیہ ضروری ہے، تاکہ معلوم ہو سکے کہ آج کے امن کے علمبرداروں نے کل کون سا “گُل” کھلایا تھا۔
“جو رہنماء دشمن کے بیانیے کو تقویت دے، وہ ملک کے سفارتی محاذ پر خود دشمن بن جاتا ہے۔ اور دشمن کے ہاتھوں ملک کا نقصان وقت کی ضرورت نہیں، بلکہ منصوبہ ہوتا ہے۔”
۲۲ ستمبر ۲۰۱۸ کو سعودی عرب کے ریاض سے سابق وزیراعظم عمران خان پرائیویٹ طیارے میں امریکہ کے لیے روانہ ہوئے، یہ طیارہ محمد بن سلمان نے فراہم کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد نے پاکستان کو عالمی فورمز پر سعودی حمایت اور سفارتی روابط کے ساتھ آگے بڑھانے کے لیے یہ سہولت دی تھی۔ لیکن امریکہ میں عمران خان کی گفتگو، بیانات اور ملاقاتوں میں توازن نہیں رہا۔ وہ سعودی مفادات کے خلاف سفارتی کوششوں میں ملوث پائے گئے، جس پر محمد بن سلمان نے ٹیکنیکل خرابی کا بہانہ بنا کر پرائیویٹ جیٹ واپس بلا لیا اور عمران خان کو کمرشل فلائٹ سے پاکستان واپس آنا پڑا۔ اس دورے کے دوران عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ، طیب اردگان، ملائشیا کے وزیراعظم، ورلڈ بینک کے اعلیٰ عہدہ داروں اور دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ محمد بن سلمان یہ سب دیکھ رہے تھے، جائزہ لے رہے تھے، اور عمران خان کے متضاد بیانات نے انہیں الجھا دیا تھا۔ یوں اس دورے نے پاک سعودیہ تعلقات کو واپسی سے پہلے ہی نقصان پہنچا دیا تھا۔
واپس آ کر عمران خان نے کشمیر ایشو کے حوالے سے او آئی سی پر تنقید شروع کر دی اور متبادل اسلامی فورم کی ضرورت پر زور دیا۔ ترکی، ملائشیا اور قطر کے ساتھ روابط بڑھائے، اور مہاتیر محمد کو کوالالمپور میں اسلامی سمٹ بلانے کی تجویز دی۔ حتیٰ کہ ترک صدر اور مہاتیر محمد کے ساتھ شرکت کا وعدہ بھی کیا۔ مگر جب محمد بن سلمان نے ہلکی سی ناراضگی ظاہر کی تو عمران خان اس وعدے سے پیچھے ہٹ گئے۔ اس جادوئی سفارتی پالیسی کے نتائج خاموش تبدیلیوں کی شکل میں سامنے آئے، جو پاکستان کے حق میں نہیں تھے۔ پاک سعودی تعلقات متاثر ہوئے، ۲۰۱۹ کے بعد اعلیٰ سطح کی گرمجوشی ختم ہو گئی۔ سعودی عرب نے سیاسی حمایت کم کر دی اور معاملات کو زیادہ ادارتی بنا دیا۔ اس وقت پاکستان شدید معاشی دباؤ میں تھا، زرمبادلہ کے ذخائر نہ ہونے کے برابر تھے اور مکمل طور پر آئی ایم ایف پر انحصار کرتا تھا۔ ایسے میں سعودی عرب نے ایک ارب ڈالر قبل از وقت واپس مانگ لیے اور تیل کی موخر ادائیگی بھی معطل کر دی۔
او آئی سی کے متبادل بلاک کی تشکیل عملی شکل نہ لے سکی۔ عمران خان نے بعد میں اعتراف کیا کہ “ہم مسلم دنیا میں تقسیم سے بچنے کے لیے شرکت نہیں کر سکے”۔ یوں یہ منصوبہ محض خیال ہی رہ گیا۔ ۲۰۲۰ میں تعلقات بحال کرنے کی کوششیں ضرور ہوئیں، مگر پہلے جیسا اعتماد واپس نہ آیا۔ ترک صدر نے واضح بیان جاری کیا کہ پاکستان نے سعودی دباؤ میں آ کر اسلامی سمٹ میں شرکت نہیں کی۔ یہ وہ سفارتکاری تھی جس میں ایک طرف سعودی تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی، دوسری طرف سعودی مفادات کے خلاف نیا بلاک بنانے کی ٹھان لی گئی اور پھر سعودی دباؤ میں ترکی اور ملائیشیا کو ناراض کر دیا گیا۔
پاک چین تعلقات میں بھی اسی دور میں شدید غلطیاں ہوئیں۔ چین کا اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد پہنچا، اور وفاقی وزیر مراد سعید نے چینی عہدہ داروں کو بے ادبی سے نکال دیا۔ اس واقعہ نے چین کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ بعد ازاں سی پیک سے متعلق اہم معاہدے اور معلومات امریکہ کے حوالے کر دی گئیں۔ چین نے سی پیک کے بڑے پراجیکٹس کو عارضی طور پر فریز کر دیا، اور باقی منصوبوں پر بھی سخت شرائط عائد کیں۔
اس کے بعد عمران خان بغیر منصوبہ بندی کے روس گئے، عین اس وقت جب روس یوکرین پر حملہ کرنے والا تھا۔ اس دورے کے دوران پیوٹن نے عمران خان کو سامنے بٹھا کر یوکرین پر حملہ کر دیا، اور یہ پیغام دیا کہ حملے کے وقت آپ کا قریبی ساتھی میرے پاس بیٹھا تھا۔ عمران خان نے نہ تو ناراضگی ظاہر کی اور نہ ہی کسی بیان میں جنگ کی مذمت کی۔ واپس آ کر انہوں نے بیان دیا کہ روس سے سستی گندم اور تیل لے رہے ہیں، بدلے میں جنگ کی مذمت سے باز رہیں گے۔ یورپی یونین نے خط لکھ کر پاکستان سے جنگ کی مذمت کی درخواست کی، مگر عمران خان نے سفارتی جواب دینے کی بجائے جلسہ بلوا کر کہا: “ہم کوئی غلام ہیں کہ تم جو کہو ہم مان لیں گے؟” اس بے وقوفانہ حرکت کی وجہ سے یورپی یونین نے پاکستان کی برآمدات پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا، جو جنرل قمر جاوید باجوہ کی جنگ کی مذمت کی وجہ سے رک گیا۔
امریکہ سے تعلقات میں بھی عمران خان کی شکایات معمولی نہیں تھیں۔ بائیڈن سے شکایت رہی کہ وہ فون پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ ٹرمپ سے ملاقات میں صرف چند منٹ کی گفتگو ہوئی، جس میں عمران خان نے امریکی مطالبات کے آگے ہاں میں ہاں ملائی۔ بعد ازاں انہوں نے ایک پلانٹڈ انٹرویو میں کہا کہ وہ ایٹمی ہتھیار رکھنے کے خلاف ہیں، جس سے یہ تاثر دیا گیا کہ وہ کسی بھی چیز کے لیے تیار ہیں۔ ایران کے دورے میں انہوں نے کہا: “ایران میں دہشتگردی پاکستان سے ہو رہی ہے” یہ بیان نہ صرف غلط تھا بلکہ اس سے ایران کے ساتھ تعلقات مزید خراب ہوئے۔ پاکستان کے اندرونی معاملات پر غیر ذمہ دارانہ بیان بازی نے سفارتی نقصان پہنچایا۔ برطانیہ کے دورے پر بھی انہوں نے جھوٹا اعلان کیا کہ سرکاری دورہ کریں گے، لیکن پھر مکر گئے، جس سے برطانوی سفیر کی ساکھ متاثر ہوئی اور پاکستان کی سفارتی ساکھ بھی مجروح ہوئی۔
یہ وہ وجوہات تھیں جن کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ نے اس بوجھ کو اتارنے کا فیصلہ کیا۔ جن اتحادیوں نے نیازی حکومت بنانے میں مدد دی تھی، ان پر سے دباؤ ہٹا دیا گیا۔ ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سہارے یہ حکومت کھڑی تھی، لیکن جب اسٹیبلشمنٹ نے نیازی حکومت کا ساتھ چھوڑا تو زرداری اور نون لیگ نے اتحاد بنا کر عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا۔ نیازی حکومت مزید برقرار نہ رہ سکی اور پارلیمانی عمل کے ذریعے ختم ہو گئی۔
پی ٹی آئی کی سیاست نے ملک کو تباہی کے کنارے پر پہنچا دیا۔ انہوں نے ملکی معیشت کو تباہ کیا، خارجہ پالیسی کو برباد کیا، نوجوان نسل کے اخلاق کو بگاڑ دیا اور اپنی سیاست کے ذریعے جھوٹ اور فتنہ پھیلایا۔ ان کے دور میں سفارتکاری صرف جذباتی بیان بازی، ذاتی انا اور غلط ترجیحات کا مجموعہ بن گئی، جس کا خمیازہ پورا ملک بھگت رہا ہے۔ اگر سفارتکاری کا مقصد قومی مفادات کا تحفظ ہے، تو کیا اس دور میں ملک کے مفادات کو قربان نہیں کیا گیا؟ جو لوگ آج “امن کے علمبردار” بن کر خود کو پیش کرتے ہیں، انہوں نے کل ملک کو کس قدر نقصان پہنچایا ؟ یہ تاریخ کبھی نہیں بھولے گی۔

0 Comments