شعور جس کا نتیجہ محرومی ہو۔

 

سجاداحمدشاہ کاظمی | کالم نگار ، صحافی

اگر یہ کالم معزز وزیر اعلیٰ تک پہنچ جائے تو بہتر، اور اگر نہ پہنچ سکے تو اہلِ قلم اور باشعور شہریوں سے گزارش ہے کہ اسے متعلقہ ایوانوں تک ضرور پہنچایا جائے۔ کیونکہ سوال کسی ایک فرد کا نہیں، پورے صوبے کے مستقبل کا ہے۔ خیبر پختونخواہ کے بچے جانتے ہیں کہ بھوک کا علاج روٹی ہے ، یہ شعور ہے وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ بازار میں آٹا دستیاب ہے ۔یہ معلومات ہے۔مگر جب ان کے بے روزگار والدین ان بچوں کو پیٹ بھر کے روٹی نہیں کھلا سکتے تو سوال جنم لیتا ہے: کیا محض جان لینا ہی کافی ہے؟ اسی طرح عوام جانتے ہیں کہ معیاری اسکول کیسے ہوتے ہیں، ہسپتالوں میں ڈاکٹر کیوں ضروری ہیں، سڑکیں کیوں بنتی ہیں، صنعتیں کیوں لگتی ہیں، اور روزگار کیوں پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ سب شعور ہے۔

لیکن جب عملی زندگی میں بنیادی سہولیات محدود، روزگار کے مواقع کم، اور مہنگائی کی رفتار زیادہ ہو تو محض شعور کا چرچا ترقی کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ یہ محض تاثر نہیں ، سرکاری اعداد و شمار بھی اسی سمت اشارہ کرتے ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے لیبر فورس سروے 2023-24 کے مطابق:خیبر پختونخوا میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 9 فیصد سے زائد ریکارڈ کی گئی۔ جبکہ پنجاب میں یہی شرح تقریباً 7 فیصد کے قریب رہی۔ یعنی روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں پنجاب، خیبر پختونخوا سے بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔ لہذہ اگر ہر دس میں سے ایک نوجوان بے روزگار ہو تو بیانیہ نہیں، ملازمت درکار ہوتی ہے۔

مزید برآں، قومی سطح پر بے روزگاری کی شرح گزشتہ دو دہائیوں کی بلند ترین سطح تک پہنچی ہے۔ ایسے میں صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کہ وہ صنعتی ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ تیرہ برس کی مسلسل حکمرانی کے باوجود خیبر پختونخوا میں صنعتی زونز، بڑے سرمایہ کاری منصوبے اور نجی شعبے کی توسیع وہ رفتار کیوں حاصل نہ کر سکی جو وعدوں میں دکھائی گئی تھی؟ معاشی پیداوار کے اعتبار سے بھی خیبر پختونخوا کا ملکی جی ڈی پی میں حصہ اس کی آبادی کے تناسب سے کم ہے۔ صوبہ ملک کی آبادی کا نمایاں حصہ رکھتا ہے مگر معاشی پیداوار میں اس کا حصہ محدود ہے۔ اس کا مطلب واضح ہے: انسانی وسائل کے باوجود معاشی ڈھانچہ کمزور ہے۔

گزشتہ تیرہ برس سے صوبے میں ایک ہی سیاسی جماعت حکمرانی کر رہی ہے۔ اس عرصے میں بیانیہ تقاریر اور نظریاتی وابستگی جیسے عوامل مضبوط ہوئے ہوں گے، مگر سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا اسی رفتار سے روزگار کے مواقع دستیاب ہو سکے؟ کیا صحت اور تعلیم کے شعبوں میں وہی انقلابی بہتری آئی جس کے وعدے کیے گئے تھے؟ کیا صوبے کی معیشت خود کفالت کی سمت میں واضح پیش رفت کر سکی؟ اگر عوامی سطح پر یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ بیانیہ ترقی پر غالب آ چکا ہے، تو اس کی ذمہ داری بھی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ایک جمہوری حکومت کی اصل طاقت سیاسی وفاداری نہیں بلکہ کارکردگی ہوتی ہے۔ دلیل سے زیادہ ڈیلیوری بولتی ہے۔

ایک طالبہ کے سوال پر سیاسی وابستگی کا شبہ ظاہر کرنا اور بس یہ کہہ دینا؛ ’’ہم نے شعور دیا‘‘ مسئلے کا حل نہیں۔ نوجوان سوال کریں گے، اور یہ ان کا حق ہے۔ جمہوری قیادت سوالوں سے خائف نہیں ہوتی بلکہ ان کا جواب کارکردگی سے دیتی ہے۔ اگر کارکردگی مضبوط ہو تو تنقید خود بخود کمزور پڑ جاتی ہے۔ یہ کہنا کافی نہیں کہ شعور بیدار ہو چکا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس شعور کے نتیجے میں عوام کی معاشی حالت بہتر ہوئی ہے؟ بازار میں اشیائے ضروریہ کی موجودگی کا علم شعور ہے، مگر انہیں خریدنے کی مستقل استطاعت ترقی ہے۔ اگر ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد بھی نوجوان روزگار کے لیے دربدر ہوں، صنعت کاری محدود ہو، اور بنیادی ڈھانچے کی رفتار سست ہو تو حکومت کو محاسبہ قبول کرنا چاہئے ناکہ ’’تم اے این پی سے ہو‘‘ کہنا چاہئے۔

سیاسی دھرنے، احتجاج اور بیانیے اپنی جگہ، مگر صوبے کی عوام کا بنیادی مسئلہ روزگار، مہنگائی، صحت اور تعلیم ہے۔ کسی بھی حکومت کی ترجیح اپنے صوبے کی انتظامی اور معاشی بہتری ہونی چاہیے، نہ کہ مسلسل سیاسی محاذ آرائی۔تاریخ نعروں سے نہیں، نتائج سے لکھی جاتی ہے۔ اگر تیرہ برس بعد بھی عوام یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہوں کہ ؛ "کیا لوگ شعور کھائیں گے روٹی کی جگہ؟" تو یہ اپوزیشن کا بیانیہ نہیں، عوامی اضطراب ہے جو حکومتی نالائقی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ اور سرکاری اعداد و شمار اس اضطراب کو رد نہیں کرتے۔

یہ کالم کسی سیاسی دشمنی کا اظہار نہیں بلکہ ایک سنجیدہ مطالبہ ہے:

خیبر پختونخواہ کو نظریاتی مباحث سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو نعروں سے زیادہ نوکریاں چاہئیں۔ والدین کو تقریروں سے زیادہ خریدنے کی طاقت درکار ہے۔ اگر حکومت اپنی توانائیاں سیاسی کشمکش کے بجائے معاشی اور انتظامی اصلاحات پر مرکوز کرے تو یہی سب سے بڑی سیاسی کامیابی ہوگی۔ بصورت دیگر، تاریخ کارکردگی کی کمی کو نظریاتی وابستگی کے پردے میں زیادہ دیر تک چھپنے نہیں دے گی۔

فیصلہ اب بھی حکومت کے ہاتھ میں ہے: شعور کی سیاست جاری رکھنی ہے یا ترقی کی عملی مثال قائم کرنی ہے۔

Post a Comment

0 Comments