![]() |
| محمدثاقب ساقی | کالم نگار |
صاحبِان علم و دانش کے مطابق مٹی کا منہ بڑا ٹھنڈا ہوتا ہے، یعنی خدا کے اس تخت پر کیسے کیسے اندوہناک واقعات رونما ہوتے ہیں، مگر چند ہی دنوں میں ان کا نام و نشان تک باقی نہیں رہتا۔ بالخصوص پاکستان کی مٹی کا منہ تو گویا یخ ٹھنڈا ہے؛ شاید اس پر بسنے والوں کے لہجے بھی باقی دنیا سے کچھ زیادہ ہی سرد ہیں۔ ملکِ خداداد پاکستان میں آئے روز کوئی نہ کوئی دل چیر دینے والا واقعہ پیش آتا ہے، مگر تھوڑے ہی عرصے بعد وہ واقعہ “کب اور کہاں؟” جیسے استفہامیہ ظروف کے ساتھ یاد کیا جانے لگتا ہے۔
اسلام آباد میں ترلائی کے مقام پر پیش آنے والا واقعہ بھی محض دو دن میں اپنی "وقعت" کھو بیٹھا ہے۔ اب یہ سانحہ یا تو پرانے اخبارات کی بوسیدہ پرتوں میں ملے گا، یا پھر ان لوگوں کے سینوں میں جن کے خویش و اقارب اس دہشت گردی کا نشانہ بنے۔
چھ فروری بروز جمعہ المبارک، اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع ایک مسجد جو مرکزی امام بارگاہ بھی ہے میں پیش آنے والا المناک سانحہ کئی معصوم زندگیوں کے چراغ گل کر گیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس بزدلانہ واردات کے نتیجے میں 35 نہتے شہری جاں بحق جبکہ 169 کے قریب افراد زخمی ہوئے، جو راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ شہدا میں اکثریت اسلام آباد کے رہائشیوں کی تھی، جبکہ چند کا تعلق گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا سے تھا۔
اکیس سالہ عون عباس، جو ترلائی کا ہی رہائشی تھا، اس نے حملہ آور کو دروازے پر دبوچ لیا۔ اگر عون عباس اس جرأت کا مظاہرہ نہ کرتا تو حملہ آور مزید آگے تک جا سکتا تھا، جس سے جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔ اصغر علی صاحب، جو ترلائی کے رہائشی ہیں، اس حملے کے عینی شاہدین میں شامل ہیں۔ انہوں نے فائرنگ کی آوازیں سنیں اور دھماکے ہوتے دیکھے۔ اس حملے میں اصغر صاحب معمولی زخمی بھی ہوئے۔
دہائیوں سے دہشت گردی کی چکی میں پستی ہوئی اس قوم کے لیے یہ واردات کوئی بالکل نئی بات نہیں تھی، اگرچہ اس واقعے کے حوالے سے بے شمار چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں، جو کسی حد تک درست بھی معلوم ہوتی ہیں۔ پاکستان میں، خصوصاً بین الصوبائی راہداریوں پر، جگہ جگہ سکیورٹی چیک پوسٹیں قائم ہیں جہاں سفر کرنے والے ہر شہری کا قومی شناختی کارڈ سسٹم پر چیک کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں متعدد جرائم پیشہ افراد گرفتار بھی ہوئے، مگر خدا جانے یہ حملہ آور یاسر کیسے بچ نکلا۔
سکیورٹی اداروں کو جائے وقوعہ سے حملہ آور کا شناختی کارڈ بھی ملا۔ اس حوالے سے یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا حملہ آور واقعی اپنا شناختی کارڈ ساتھ لے کر پھر رہا تھا؟ جب وہ خود جہنم واصل ہونے جا رہا تھا تو اپنے پیچھے رہ جانے والوں کی زندگیاں جہنم بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ میرے ناقص علم کے مطابق یاسر کوئی چھوٹا موٹا وارداتی نہیں تھا، نہ ہی اسے پکڑے جانے کا کوئی خوف تھا؛ بلکہ اس کے عزائم خاصے بلند تھے۔ یہ اس کی ذہن سازی کا نتیجہ تھا کہ وہ جب گھر سے نکلا تو واپسی کے تمام دروازے بند کر کے نکلا۔
یاسر ولد بہادر خان، ضلع نوشہرہ کا مستقل رہائشی تھا، جبکہ ان دنوں اسلام آباد کے ایک پوش علاقے میں مقیم تھا۔ دھماکے کے چند گھنٹوں بعد حملہ آور سے متعلق سرکاری طور پر کئی تفصیلات سامنے آئیں، جن کے مطابق یاسر چھ ماہ افغانستان میں رہا جہاں اس نے تربیت حاصل کی۔ اس کے تعلقات افغانستان کی ایک دہشت گرد تنظیم سے تھے، اور موجودہ حملے کی ہدایات بھی مبینہ طور پر وہیں سے موصول ہوئیں۔ ان تفصیلات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ یاسر ولد بہادر خان کا نام پہلے ہی سسٹم میں موجود تھا۔ اگر ایسا تھا تو افغانستان آنے جانے کے دوران وہ کیسے بچ نکلا؟
چلیں مان لیا کہ سفر کے دوران وہ کسی نہ کسی طریقے سے بچ گیا، مگر یہاں ایک اور اہم نکتہ شناختی کارڈ کے اجرا کی تاریخ کا ہے، جو بعض حساب دانوں کے مطابق مشکوک یا غلط ہے۔ اس ریکارڈ کے مطابق یاسر نے گزشتہ سال مارچ یا اپریل میں نادرا دفتر جا کر اپنا شناختی کارڈ بنوایا۔ یاد رہے کہ نادرا کا مکمل ریکارڈ سکیورٹی اداروں کے ساتھ منسلک ہوتا ہے، جہاں ہر چیز کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ تب بھی سسٹم پر کوئی لال بتی کیوں نہ جلی؟ یا کیا نظام اس بات کی تصدیق کے لیے کسی بڑے سانحے کے انتظار میں تھا؟
حملے کے بعد اٹھنے والے سوالات محض چہ مگوئیاں نہیں بلکہ سنجیدہ توجہ کے متقاضی ہیں، یہ واقعہ ہماری خاموشی، نظام، اور اداروں کے لیے ایک آئینہ ہے، مگر کیا ہم ۔میں ہمت ہے کہ اس آئینہ میں دیکھ سکیں؟

0 Comments