زندگی اور اس کے باطنی اصول۔

نعیم اللہ باجوہ ، میلبورن آسٹریلیا |کالم نگار

انسان جب زندگی کی معنویت کی جستجو میں نکلتا ہے، تو عموماً اس مغالطے کا شکار ہو جاتا ہے کہ شاید ہست و بود کا یہ کارخانہ کسی ریاضیاتی ضابطے یا منطقی فارمولے کے تحت مقید ہے۔ حالانکہ زندگی نہ تو محض اعداد و شمار کا گورکھ دھندا ہے اور نہ ہی صرف حسی تجربات کا حاصل، بلکہ یہ شعورِ انسانی اور کائنات کے مابین ایک لطیف ہم آہنگی اور فطرت کے ساتھ جڑے رہنے کا نام ہے۔ فطرت کا بنیادی وصف "عطا" ہے، مگر یہ کرم کسی مصلحت یا مطالبے کا مرہونِ منت نہیں۔ فطرت کسی فریاد پر اپنی روش نہیں بدلتی، بلکہ تڑپ اور قربت رکھنے والوں پر مہربان ہوتی ہے۔ جب انسان فطرت کے انوار سے دوری اختیار کرتا ہے، تو وہ سزا یا احتجاج کا راستہ نہیں اپناتی، بلکہ "خاموش" ہو جاتی ہے۔ فطرت کی یہ خاموشی دراصل ایک بلیغ ترین خطاب ہے، جس میں کسی شکایت کا شائبہ نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک اٹل حقیقت کا اظہار ہوتی ہے کہ منبع سے کٹ کر وجود 
اپنی معنویت کھو چکا ہے۔

​تاریخِ فطرت گواہ ہے کہ حسن اور جمود دو متضاد حقیقتیں ہیں۔ جو شے اپنی حرکت سے محروم ہو جائے، وہ حسن کے دائرے سے خارج ہو جاتی ہے۔ کائنات کا سارا جمال اس کے تحرک میں پنہاں ہے ، خواہ وہ بادلوں کی آوارگی ہو، دریاؤں کا بہاؤ، موسموں کا تغیر یا نور کی لہریں۔ تتلی کا حسن اس کی پرواز میں ہے؛ اگر وہ کسی ایک پھول کی اسیر ہو جائے تو اس کا وجود محض ایک بے جان نقش بن کر رہ جاتا ہے۔ اسی طرح روشنی کے باب میں بھی انسانی ادراک اکثر ٹھوکر کھاتا ہے۔ انسان اسے خارج میں تلاش کرتا ہے، حالانکہ فطرت نے "جگنو" کی علامت سے یہ ازلی سبق دے دیا ہے کہ روشنی کا تعلق ماحول سے نہیں بلکہ منبع سے ہے۔ جس وجود کے نہاں خانے میں ایقان کا چراغ روشن ہو جائے، اسے اندھیروں کی کثرت کبھی محدود نہیں کر سکتی۔ یہی معاملہ خوشبو کا ہے؛ یہ وہ جوہر ہے جو ذخیرہ کرنے سے معدوم ہو جاتا ہے اور بکھرنے سے نمو پاتا ہے۔ زندگی کا امین بھی وہی ہے جو اسے بانٹنے کا حوصلہ رکھے، کیونکہ سمیٹنے کی تڑپ روح کو مقید کر دیتی ہے۔

​فطرت دراصل انہی سے ہم کلام ہوتی ہے جن کے حواس بیدار اور قلوب منور ہوں۔ ایک صاحبِ بصیرت کے لیے بچے کی ہنسی محض ایک آواز نہیں بلکہ تخلیق کی پہلی بے ساختہ صدا ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ اس کے لیے نغمہ نہیں بلکہ ایک مسلسل ذکرِ الٰہی ہے؛ پہاڑوں کا سکوت اس کے لیے وقار کا استعارہ ہے اور بارش محض ایک موسمیاتی عمل نہیں بلکہ رحمتِ ایزدی کا نزول ہے۔ مادی خوشحالی زمان و مکاں کے تابع ہے، مگر خوابوں کی آبیاری انسان کا اپنا انتخاب ہے۔ خواب وہ واحد ماورائی سرمایہ ہیں جو انسان کو حالات کی غلامی سے بچا کر اسے ایک وسیع تر افق عطا کرتے ہیں۔ جس دن انسان خواب دیکھنے کی ہمت کھو دیتا ہے، وہ اپنے باطنی مفہوم سے دستبردار ہو جاتا ہے، خواہ اس کا ڈھانچہ بظاہر کتنا ہی متحرک کیوں نہ ہو

​انسانی معاشرے میں بلندی کا تصور بھی اکثر مسخ رہا ہے۔ حقیقی رفعت قامت کی اونچائی میں نہیں، بلکہ انکسار کی گہرائی میں پوشیدہ ہے۔ یہ انکسار کسی دنیاوی طاقت کے سامنے نہیں، بلکہ اس "حقیقتِ مطلقہ" کے حضور ہے جو انسان کو اس کے حدودِ بندگی سے آشنا کرتی ہے۔ غرور نظر کو محدود کر دیتا ہے جبکہ عاجزی قامت کو جھکا کر نگاہ کو وسعتِ کائنات بخشتی ہے۔ دھیان اور توجہ کے بغیر علم محض معلومات کا انبار ہے اور عبادت محض ایک بے روح رسم۔ جب توجہ مرکزِ واحد پر مجتمع ہو جائے تو کائنات سوال کے بجائے جواب بن کر سامنے آتی ہے۔ انسانیت کا سب سے بڑا اخلاقی المیہ یہ ہے کہ وہ ہر شے کو "نفع و نقصان" کے ترازو میں تولنے لگی ہے۔ جب قدر کا معیار صرف مال و زر ٹھہر جائے، تو محبت لین دین اور رشتے معاہدوں میں بدل جاتے ہیں۔ انسان اس زوال کو ترقی کا نام دیتا ہے، حالانکہ یہ روح کا زیاں ہے۔

​زندگی کا اصل جمال ایک نہایت سادہ عمل میں مضمر ہے کہ اپنا حق خوش دلی سے چھوڑ دیا جائے اور مسکرا دیا جائے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان فطرت کے قدیم اور ابدی اصولوں سے دوبارہ ہم آہنگ ہوتا ہے، اور فطرت اپنی قدیم روایت کے مطابق ایسے لوگوں کو کبھی محروم نہیں رکھتی۔ یہ کسی فرد واحد کی سرگزشت نہیں بلکہ ایک دائمی اصول کی یاد دہانی ہے۔ جو اس رمز کو پا لے، اس کے لیے زندگی مسئلہ نہیں رہتی، اور جو اسے نظر انداز کرے، وہ ساری عمر حل تلاش کرنے کی تگ و دو میں ہانپتا رہتا ہے بغیر یہ جانے کہ اس کا سوال ہی غلط تھا۔

Post a Comment

0 Comments