| محمد ثاقب ساقی | کالم نگار |
بھوک ننگ سے کرلاتے پنجاب کی کہانی جہاں ایک محتاط اندازے کے مطابق گیارہ کڑور انسان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں،، گزشتہ سال کے اعداد وشمار کے مطابق دو کڑور باسٹھ لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں اور مختلف قسم مزدوری کر کے اپنے والدین کا ہاتھ بٹا رہے ہیں، کچھ ایسے ہی اعدادوشمار صحت سے متعلق بھی ہیں کہ جہاں سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگ مختلف اور متعدد موذی امراض میں مبتلا ہیں مگر کوئی پرسان حال نہیں، بہترین معالج نہ اچھے ہسپتال اور ہسپتالوں میں دوائیں تو سرے سے ناپید ہیں، بجلی کی بات کریں تو پنجاب کے بجلی صارفین قریب پورے ملک کی بجلی کے واجبات ادا کر رہے ہیں، الغرض جس شعبے میں بھی نظر دوڑائیں برا حال ہی ملے گا
دوسری طرف اسی پنجاب کے کرتے دھرتوں کی قابل مذمت عیاشیاں بھی اونچی اڑانوں میں ہیں، جہاں ملک قرضوں کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے وہاں ایسی مستیاں قابل مذمت ہیں ، اس کی بہت سی مثالیں ہیں جن میں پنجاب کی خواتین وزراء کا کڑوروں کا میک اپ، بیورو کریسی کے لیے نت روز نئی اور مہنگی ترین گاڑیاں وغیرہ مگر حالیہ دنوں میں جو خبر سرورق گردش میں ہے وہ گلف سڑیم کا وہ جہاز ہے جس کے بارے میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اس جہاز ایک نظر دیکھنا بھی لاکھوں میں پڑتا ہے، خیر ہمارے ملک میں عوام کا تو ایسی چیز کو دیکھنا بھی جرم تصور ہوتا ہے، اس جہاز کے بارے میں جو معلومات سامنے آئیں ہیں ان کے مطابق اس کی ایک گھنٹے کی اڑان کا خرچہ قریب اٹھارہ لاکھ روپے ہے، اربوں روپے کی مالیت کا یہ جہاز چند مخصوص کمپنیوں کے پاس ہے کیونکہ کہ اس کے اخراجات کی وجہ سے اس کا استعمال خاص الخواص کر سکتے ہیں، یہی وجہ ہے دنیا کی مہنگی ترین ائیر لائنز کے پاس بھی یہ جہاز نہیں ہے،
مگر یہاں بنیادی سہولیات سے محروم پنجاب کی عوام کے لیے خوشخبری ہے کہ آپ کی حکومت یہ جہاز خرید رہی ہے، وزیر اطلاعات و نشریات پنجاب عظمی بخاری کے مطابق حکومت پنجاب میں ائیر پنجاب کے نام سے ایک ائیر لائن آغاز کر رہی ہے جس کے پہلے مرحلے میں سات جہاز خریدے جائیں گے یا اجارہ پر لیے جائیں گے،گلف سٹریم کا یہ جہاز بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، اگر تو یہ جہاز ائیر پنجاب کے لیے خریدا جا رہا ہے تو پنجاب کے عوام کے لیے یہ بات واقع قابل فخر ہوگی کہ پوری دنیا میں یہ واحد جہاز ہوگا جو سرکاری طور پر کسی ائیر لائن کا حصہ ہوگا، مگر ایسا ممکن نہیں ہے، یہ وزیر اطلاعات کی طرف سے محض ایک دروغ گوئی ہے، یہ بھی یاد رہے کہ براعظم جنوبی ایشیا میں اس نوعیت کا یہ دوسرا جہاز ہوگا، اس سے پہلے یہ جہاز بھارت کی ایک نجی کمپنی کے پاس ہے جس کے مالی ذخائر پاکستان کے مالی ذخائر کے تین گنا ہیں
پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے، بین الاقوامی سطح پر ہمارے ملک کے ان گنت عوامی سروے موجود ہیں، اربوں روپے مالیت کے اس جہاز کے بدلے بیسویں معیاری ہسپتال بناۓ جا سکتے تھے، سینکڑوں اچھے سکول تعمیر ہو سکتے تھے مگر یہ سب تب ہی ممکن ہوتا جب ترجیح عوام ہوتی، تو کیا ان حالات میں ایسے منصوبے ہمارے لیے عظمت کا مقام رکھتے ہیں یا یہ رسوائی کا سبب بن رہے ہیں ، مگر افسوس کہ اس فیصلہ بھی عوام نہیں کر سکتے۔
0 Comments