سرن ویلی کے سلگتے مسائل : لمحہ فکریہ۔

 
سجاداحمدشاہ کاظمی | صحافی ، کالم نگار۔

​اگر وادیِ سرن کے مسائل کی فہرست مرتب کی جائے تو تین بنیادی مسائل سرِفہرست نظر آتے ہیں۔ پہلا اور سب سے سنگین مسئلہ یہاں کے قیمتی جنگلات کا بے دریغ اور غیر قانونی کٹاؤ ہے، جس کے پیچھے "ٹمبر مافیا" کی بدمعاشی اور محکمہ جنگلات کی غفلت یا ملی بھگت کارفرما ہیں۔ دوسرا اہم مسئلہ دریائے سرن میں بڑھتی ہوئی آلودگی ہے، جبکہ تیسرا بڑا مسئلہ لینڈ سلائیڈنگ اور بارشوں کے پانی کی نذر ہونے والی وہ واحد مرکزی شاہراہ ہے جو اس وقت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے۔

​یہ تینوں مسائل بظاہر الگ الگ اور معمولی معلوم ہوتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر ترجیحی بنیادوں پر ان کا حل نکال لیا جائے تو وادی کے کئی دیگر ذیلی مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ مقامی کمیونٹی، صحافی برادری اور سیاسی و سماجی کارکنان ان سنگین معاملات پر وہ توجہ نہیں دے رہے جس کے یہ متقاضی ہیں۔ اس غفلت کی بڑی وجہ شاید قدرتی نعمتوں کی اہمیت سے متعلق شعور کی کمی اور مستقبل میں ان وسائل کے ضیاع سے پیدا ہونے والے ہولناک نتائج کا ادراک نہ ہونا ہے۔

​جنگلات کی تباہی اور ٹمبر مافیا

​سرن ویلی کے جنگلات نہ صرف اس خطے کے حسن کی علامت ہیں بلکہ اسے ایک مثالی سیاحتی مقام بنانے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ جنگلات اہلیانِ سرن کی آئندہ نسلوں کے لیے بقا کی ضمانت بھی ہیں۔ تاہم، ٹمبر مافیا ان اثاثوں کو تیزی سے راکھ کے ڈھیر میں بدل رہا ہے۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ اس غیر قانونی کٹائی میں مقامی افراد ہی ملوث ہیں جو اب ایک منظم مافیا کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

​مرکزی شاہراہ کے تین اہم مقامات — ڈاڈر، دومیل اور نواز آباد — پر پولیس تھانے اور فعال فارسٹ چیک پوسٹوں کی موجودگی کے باوجود ٹمبر سمگلنگ کا سلسلہ تھم نہیں سکا۔ قیمتی لکڑی کو مختلف گاڑیوں میں لاد کر باآسانی ٹھکانے لگایا جا رہا ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف جنگلات کا نام و نشان مٹ جائے گا، بلکہ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، سیلابی ریلوں اور کلاؤڈ برسٹ جیسے خطرات میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ یوں وادی کا فطری حسن قصہ پارینہ بن جائے گا۔

​دریائے سرن: زندگی سے آلودگی تک

​سرن ویلی کا دوسرا بڑا اثاثہ "دریائے سرن" ہے، جو سیاحوں اور مقامی آبادی کے لیے قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ مگر افسوس کہ منڈہ گچھہ، جبوڑی اور گرد و نواح کے علاقوں نے اس دریا کو گندگی کا ڈھیر بنانا شروع کر دیا ہے۔ گھروں اور مساجد کی سیوریج لائنیں بلا روک ٹوک دریا میں گر رہی ہیں، جبکہ بازاروں کا کوڑا کرکٹ بھی دریا برد کیا جا رہا ہے۔

​اس پر مستزاد یہ کہ دریا میں کرنٹ لگا کر مچھلیوں کا بے دریغ شکار جاری ہے، جس سے آبی حیات تیزی سے معدوم ہو رہی ہے۔ نتیجہ یہ کہ جس دریا کا پانی چند سال قبل تک مقامی لوگ پینے اور کھانا پکانے کے لیے استعمال کرتے تھے، آج وہ انسانی استعمال کے قابل نہیں رہا۔ اگر یہی روش جاری رہی تو یہ دریا جلد ایک بدبودار نالے میں تبدیل ہو جائے گا، جس کا براہِ راست خمیازہ مقامی آبادی کو بھگتنا پڑے گا۔

​مرکزی شاہراہ کی زبوں حالی

​تیسرا سنگین مسئلہ مرکزی شاہراہ کی خستہ حالی ہے۔ سیاحوں کی آمد و رفت کے باعث یہ سڑک اکثر ٹریفک کے دباؤ کا شکار رہتی ہے، جس سے گھنٹوں ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ، بارش کے پانی کی نکاسی کا نہ ہونا اور لینڈ سلائیڈنگ نے اس راستے کو انتہائی خطرناک بنا دیا ہے۔

​شاہراہ کی تعمیر نو اگرچہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن مقامی عوامی نمائندوں اور سیاسی کارکنوں کا فرض ہے کہ وہ اس کے لیے آواز بلند کریں۔ المیہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات لگا کر اپنی ذمہ داریوں سے پلو چھڑانے میں مصروف ہیں۔ اس حلقے سے ایم پی اے شاہ جہان یوسف، ایم این اے سردار یوسف اور مخصوص نشست پر منتخب ایم پی اے سونیہ شاہ کے ساتھ ساتھ صوبائی سطح پر اسپیکر اسمبلی بابر سلیم کی نمائندگی کے باوجود شاہراہ کی یہ حالتِ زار ایک بڑا سوالیہ نشان ہے!

​آخر میں سوال یہی ہے کہ:

جنگلات کا تحفظ، دریائے سرن کی صفائی اور شاہراہ کی تعمیر نو جیسے بنیادی مسائل کا مداوا کون کرے گا؟ کیا ہم اپنی خاموشی سے اس وادی کو تباہی کی طرف بڑھتا دیکھتے رہیں گے یا ذمہ داران اپنا فرض پورا کریں گے؟

Post a Comment

0 Comments