![]() |
| سجاداحمدشاہ کاظمی | صحافی ، کالم نگار |
دنیا بھر میں صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے۔ 'فریڈم نیٹ ورک' کی ایک رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان میں 150 سے زائد صحافیوں کو فرائض کی انجام دہی کے دوران قتل کیا گیا۔ اس سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ 95 فیصد مقتول صحافیوں کے قاتلوں کو سزا نہیں دی جا سکی، جبکہ اغوا اور بدترین تشدد کے واقعات اس کے علاوہ ہیں۔
ان خونچکاں واقعات کی روشنی میں یہ کہنا بالکل بجا ہو گا کہ صحافت ہرگز کوئی آسان کام نہیں، بلکہ یہ ایک انتہائی مشکل اور پرخطر راستہ ہے۔ ایک سچا، دیانتدار اور اپنے حلف کی پاسداری کرنے والا صحافی جب کسی غیر قانونی سرگرمی یا معاشرتی مفادات کے خلاف کام کرنے والے بااثر افراد کے خلاف خبر سامنے لاتا ہے، تو اس کی جان تک کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ ان خطرات کے خوف سے یا کسی خفیہ ڈیل کے نتیجے میں سچ کو دبا لے، تو یہ اس کے حلف کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہیں سے "زرد صحافت" جنم لیتی ہے۔ بدقسمتی سے اس دو راہے پر کھڑے ہو کر بہت کم لوگ ایمانداری، دلیری، پروفیشنلزم اور حلف کی پاسداری کا راستہ چُنتے ہیں؛ اکثریت موقع پرستی، دیہاڑی داری، تعلقات بنانے اور سچ کو سنسر کرنے کے راستے کی مسافر بن جاتی ہے۔
حلف کی پاسداری پر ذاتی مفادات کو ترجیح دینے والے اس مخصوص طبقے کا طریقہ واردات بھی انتہائی شرمناک ہے۔ یہ لوگ کسی محکمے، کرپٹ افسر یا جرائم پیشہ مافیاز (جیسے ٹمبر مافیا، ڈرگ سمگلرز، لینڈ مافیا اور ٹرانسپورٹ مافیا) کے خلاف ثبوت حاصل کرتے ہیں، ویڈیوز یا تصاویر بناتے ہیں، لیکن ان کا مقصد برائی کا خاتمہ نہیں بلکہ بلیک میلنگ کے ذریعے پیسے بٹورنا ہوتا ہے۔ یہ بلیک میلر عناصر متعلقہ کرپٹ افراد کے پاس جا کر سودے بازی کرتے ہیں اور جیسے ہی مطلوبہ رقم ملتی ہے، تمام ثبوت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غائب کر دیے جاتے ہیں۔ یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو وہ کر رہے ہیں وہ صحافت نہیں بلکہ جرائم میں شراکت داری ہے، لیکن وہ اپنے ضمیر کا سودا کر چکے ہوتے ہیں۔
اسی طبقے سے تعلق رکھنے والے کچھ نام نہاد صحافی آگے چل کر بیوروکریٹس، سیاستدانوں اور مافیاز کے ساتھ گہرے مراسم استوار کر لیتے ہیں۔ پھر جب ان کے ان "طاقتور دوستوں" کے خلاف کوئی سچی خبر سامنے آتی ہے، تو یہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اس خبر کو دبانے اور خبر لانے والے سچے صحافی پر دباؤ ڈالنے کے لیے کرپٹ عناصر کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ لوگ باہر کے دشمنوں سے زیادہ صحافت کی آزادی اور اس کے تقدس کے اصل دشمن ہیں۔
اس قسم کے مفاد پرستوں کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا، نہ ہی انہیں صحافتی اصولوں اور آزادیِ اظہار سے کوئی غرض ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک آغاز سے اختتام تک ثبوتوں کی سودے بازی، بلیک میلنگ، مافیاز کی پشت پناہی اور سیاسی شخصیات کی چاپلوسی کر کے پیسہ کمانا ہی صحافت ہے۔ خطرات سے دوچار تو صحافت کے ماتھے کا جھومر وہ صحافتی طبقہ ہے جو حلف اٹھا کر اسے بھولتا نہیں، بلکہ اس کی پاسداری میں اپنی جان تک داؤ پر لگا دیتا ہے۔
چنانچہ، صحافتی آزادی کی جب بھی کہیں بات ہوتی ہے، تو اصولاً پہلا طبقہ (مفاد پرست ٹولہ) بحث سے خارج ہو جاتا ہے، کیونکہ لاحق خطرات اور آزادی ان کا مسئلہ ہی نہیں۔ یہ مسائل تو میرٹ پر صحافتی فرائض کی انجام دہی کے لیے کرپٹ عناصر اور طاقتور مافیاز کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہونے والے قلمی مجاہدوں کے ہیں۔
بظاہر ٹی وی اسکرین پر خبریں پڑھنا، ہاتھ میں مائیک پکڑنا، ڈائری اور قلم لیے معلومات اکٹھی کرنا یا ائیر کنڈیشنڈ اسٹوڈیو میں بیٹھنا بہت آسان معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ کام بارود کے ڈھیر پر بیٹھنے کے مترادف ہے۔ ہر وہ خبر جو میرٹ پر پوری اترتی ہے، وہ کسی نہ کسی طاقتور مافیا، کرپٹ بیوروکریٹ یا بااثر سیاستدان کے مفادات پر ضرب لگاتی ہے۔ لہٰذا یہ کہنا ہزار فیصد درست ہوگا کہ صحافت صرف معلومات فراہم کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ مقتدر حلقوں کو جوابدہ بنانے، سچ کو سامنے لانے، تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کرنے اور عوام تک حقائق پہنچانے کی ایک مسلسل جنگ کا نام ہے۔
ایک ایماندار اور دیانتدار صحافی کو روزانہ کی بنیاد پر سیاسی و سماجی دباؤ، طاقتور عناصر کی دھمکیوں، اور اخلاقی طور پر دیوالیہ لوگوں کی طرف سے گالم گلوچ اور تشدد کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ پسنے والا طبقہ مقامی یا لوکل صحافی ہیں، جو اگر واقعی صحافت کے ساتھ انصاف کریں تو ایک طرف انہیں اغوا، تشدد اور قتل کے سنگین خطرات لاحق رہتے ہیں، تو دوسری طرف وہ شدید معاشی استحصال، کم تنخواہ یا بغیر تنخواہ کے کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں
مجموعی طور پر، سچی صحافت ریاست کا وہ چوتھا ستون ہے جس پر معاشرے کے انصاف کا دارومدار ہے۔ جب تک سچ لکھنے والے ہاتھوں کو تحفظ اور قلم کو آزادی نہیں ملے گی، تب تک کرپشن اور ناانصافی کا یہ ناسور معاشرے کو چاٹتا رہے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست سچے صحافیوں کو تحفظ فراہم کرے اور صحافتی تنظیمیں اپنے اندر چھپی ان کالی بھیڑوں کا محاسبہ کریں جو اس مقدس پیشے کو بدنام کر رہی ہیں۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب سچ کا گلا گھونٹ دیا جائے اور جھوٹ کو صحافت کا لبادہ اوڑھا دیا جائے، تو معاشرے تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم سچ کے علمبرداروں کے ساتھ کھڑے ہیں یا زرد صحافت کے سوداگروں کے؟

0 Comments