عطائیت : سرن ویلی کے عوام کے بنیادی حق صحت پر خاموش حملا

عطائیت:عوام کے بنیادی حق صحت پر سنگین حملا۔

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 9 کی عدالتی تشریح کے مطابق "زندگی کا حق" محض سانس لینے تک محدود نہیں بلکہ باوقار، محفوظ اور صحت مند زندگی گزارنے کی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 38 ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود، خصوصاً صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ اسی تناظر میں ہر شہری کا یہ بنیادی حق ہے کہ اسے مستند، محفوظ اور معیاری طبی سہولیات میسر ہوں۔

بدقسمتی سے خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے بالائی علاقے سرن ویلی، بالخصوص اپر سرن ویلی میں یہ آئینی حق (صحت کی مستند بنیادی سہولیات) عملی طور پر ناپید دکھائی دیتا ہے۔ یہاں کے محنت کش، غریب، کم تعلیم یافتہ اور سادہ لوح عوام صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہو کر غیر مستند معالجین، یعنی عطائیوں، کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عطائی اکثر فیس نہیں لیتے، ادھار پر دوائیں دے دیتے ہیں، رات گئے مریض کے گھر پہنچ کر انجیکشن یا ڈرپ لگا دیتے ہیں اور فوری و وقتی ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی سہولتیں ہیں جو عوام کی نظر میں انہیں (عطائیوں کو) "مسیحا" بنا دیتی ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

 متعدد واقعات میں غیر مستند علاج مریضوں کی جان اور صحت کے لیے سنگین نقصان کا باعث بنتا ہے، لیکن مقامی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد سے عطائیوں کے تعلقات اور سماجی دباؤ کے باعث ایسے معاملات اکثر دب کر رہ جاتے ہیں اور ذمہ داران قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔

صورتحال اس قدر تشویشناک ہو چکی ہے کہ اگر کوئی صحافی، سماجی کارکن، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ یا باشعور شہری عطائیت کے خلاف آواز بلند کرے تو اسے مقامی بااثر حلقوں کی مخالفت، دھمکیوں، گالم گلوچ اور بعض اوقات تشدد جیسے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پسماندگی اور سرکاری طبی سہولیات کی کمی کو جواز بنا کر عطائیت کا دفاع کیا جاتا ہے، حالانکہ کسی بھی قسم کی محرومی کو دلیل بنا کر غیر قانونی اور غیر محفوظ متبادل کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ متعلقہ نگران اداروں کی موجودگی کے باوجود عوام کو مؤثر تحفظ حاصل نہیں۔ اگر ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، ڈرگ انسپکشن اور دیگر متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تو غیر مستند علاج کا یہ سلسلہ رک سکتا ہے۔ لیکن قانون کی خاموشی بالآخر عوام کی جانوں پر بھاری پڑ رہی ہے۔ 

راقم نے گزشتہ ایک سے ڈیڑھ سال کے دوران بطور صحافی پرنٹ، ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر مسلسل اس مسئلے کو اجاگر کیا، شواہد کے ساتھ متعلقہ حکام کو درخواستیں بھی پیش کیں، مگر خاطر خواہ کارروائی نہیں ہو سکی۔ اس طرزِ عمل سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ یا تو معاملے کو مطلوبہ سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا یا پھر نگرانی کا نظام کسی مصلحت یا مبینہ ملی بھگت کا شکار ہے۔ فیلڈ ورک کے دوران جب ایک صحافی نے عطائی سے ڈگری اور لائسینس دکھانے کو کہا تو جواب ملا " میری ڈگری اور لائسینس ڈی ایچ او اور ڈرگ انسپیکٹر آپ کو دکھائیں گے ان سے طلب کریں " جبکہ قانون کے مطابق ڈگری اور لائسینس کلینک میں آویزاں کرنا یا پر کسی عام شہری کو برائے تسلی دکھانا ہر ڈاکٹر کے لئے لازم ہے۔  

عطائیت کی جڑ صرف محرومیاں ہی نہیں بلکہ جہالت اور آگاہی کا فقدان بھی ہے۔ لوگ یہ فرق ہی نہیں جانتے کہ ایک مستند ڈاکٹر، جس نے باقاعدہ طبی تعلیم اور تربیت حاصل کی ہو، اور ایک غیر تربیت یافتہ عطائی کے درمیان بنیادی فرق کیا ہے؟۔ لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ مستند ڈاکٹر صرف امیر طبقے کے لیے ہوتے ہیں اور مستند علاج غریب کی پہنچ سے باہر ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مستند ڈاکٹر اپنے علم اور پیشہ ورانہ مہارت کا معاوضہ لیتے ہیں، جبکہ غیر ضروری ادویات یا غیر سائنسی طریقوں سے منافع کمانا ان کے پیشے کا مقصد نہیں ہوتا۔

یہ غلط فہمی بھی عام ہے کہ اگر عطائی غیر مستند ہیں تو ان کی دی ہوئی دوائیں فوری آرام کیوں پہنچاتی ہیں؟ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ بعض اوقات طاقتور درد کش ادویات، غیر ضروری اینٹی بائیوٹکس یا سٹیرائیڈز وقتی طور پر علامات کو دبا دیتی ہیں، جس سے مریض کو فوری افاقہ محسوس ہوتا ہے۔ لیکن علامات کا وقتی خاتمہ بیماری کے مکمل علاج کے مترادف نہیں ہوتا۔ اگر اصل مرض کی درست تشخیص اور مناسب علاج نہ کیا جائے تو بیماری اندر ہی اندر بڑھتی رہتی ہے اور بعد میں زیادہ سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اینٹی بائیوٹکس اور سٹیرائیڈز کے غیر ضروری استعمال کے خلاف طبی ماہرین مسلسل خبردار کرتے ہیں۔

یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ہر عطائی کے پاس جانے والا مریض لازماً نقصان اٹھاتا ہے یا فوری افاقہ نقصان دہ دوا کی وجہ سے ہوتا ہے، لیکن غیر تربیت یافتہ شخص کے ہاتھوں تشخیص، ادویات کے انتخاب اور پیچیدہ بیماریوں کے علاج کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ صحت جیسے حساس شعبے میں اندازوں اور تجربات کے بجائے مستند علم اور قانونی اجازت کو ہی بنیاد بنایا جانا چاہیے۔

اس مسئلے کا مستقل حل صرف کارروائی نہیں بلکہ آگاہی بھی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ سرن ویلی جیسے دور افتادہ علاقوں میں بنیادی صحت مراکز فعال کرے، مستند ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے کی دستیابی یقینی بنائے، ادویات کی فراہمی بہتر بنائے اور غیر قانونی طبی سرگرمیوں کے خلاف مؤثر نگرانی کا نظام قائم کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ علماء کرام، اساتذہ، صحافی، سماجی کارکن اور مقامی عمائدین پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام میں شعور بیدار کریں اور انہیں مستند علاج کی اہمیت سے آگاہ کریں۔

آخر میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ صحت کوئی رعایت نہیں بلکہ ہر پاکستانی کا آئینی اور انسانی حق ہے۔ ریاست، معاشرہ اور متعلقہ ادارے اگر اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تو نہ صرف عطائیت جیسے ناسور پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ ہزاروں بے گناہ جانوں کو قابلِ تدارک نقصان سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔ 

Post a Comment

0 Comments