سرن ویلی کی سیاحت اور صوبائی حکومت کا کردار۔


 عبدالواحدخان (ایل ایل بی) | کالم نگار ، صحافی۔

کسی بھی علاقے کی سیاحت کے فروغ میں سڑکوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے سرن ویلی تعمیر وترقی کے اعتبار سے کسی لاوارث علاقے کا منظر پیش کرتی ہے، خاص طور پر سرن ویلی کی اہم اور مصروف ترین شاہراہ کسی جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کررہی ہے۔خانپور تا نواز آباد 26 کلومیٹرز پر محیط شاہراہ کو ایشئین ڈویلپمنٹ بینک کے تعاون سے تعمیر کیا گیا تھا۔محکمہ سی اینڈ ڈبلیو مانسہرہ کی روایتی اور مجرمانہ چشم پوشی کیوجہ سے نہ صرف سیاحوں کو سفری مشکلات درپیش ہیں جبکہ مقامی آبادی بھی شدید مشکلات کا شکار ہے۔اسی طرح نوازآباد تا منڈہ گھچہ اور دیولی سادات تاء نرالبن سڑک کی خستہ حالی کسی جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کرتی ہے۔دیولی تا نرالبن سڑک کی تعمیر کا منصوبہ انتہائی سست روی کا شکار ہے اور محکمہ کی ملی بھگت سے سڑک کی کٹائی کا کام کرکے باقی روڈ کو کھیت نما بنا دیا گیا ہے۔

اسی طرح سچہ تا ستھان گلی روڈ بھی گذشتہ کئی برسوں سے اپنی خستہ حالی کا رونا رو رہی ہے۔یہ روڈ سچہ کے مقام سے الگ ہوکر براستہ ستھان گلی کونش ویلی کے علاقے بٹل سے جا ملتی ہے۔سڑک کی خستہ حالی کیوجہ سے اس علاقے کی کثیر آبادی سفری مشکلات سے دوچار ہے۔اگر سڑک کی حالت بہتر ہو تو سرن ویلی اور کونش ویلی کے درمیان یہ ایک انتہائی موثر ذریعہ ہے۔

 جبوڑی بانڈہ گیسچ روڈ بھی محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے کمیشن خو انجنئیروں کے عمدہ شاہکار کا عملی نمونہ پیش کررہا ہے۔محکمہ  سی اینڈ ڈبلیو کی انوکھی ڈرائنگ کے مطابق تعمیر ہونے والے اس روڈ کی حالت بھی انتہائی ناگفتہ بہ ہوچکی ہے۔

محکمہ  کیطرف سے سرن ویلی کی مین شاہراہ کو جس لاپرواہی اور غیر ذمہ داری کیساتھ نظر انداز کیا گیا ہے اسکی نظیر ملنا مشکل ہے۔ اگر ہرسال سڑک کی مرمتی کیطرف توجہ دی جاتی تو آج اس اہم ترین شاہراہ کی حالت کچھ اور ہوتی۔

سڑکوں کی خستہ حالی کیوجہ سے سرن ویلی کی سیاحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں جبکہ صوبائی حکومت کی مجرمانہ چشم پوشی کے نتیجے میں عوامی حلقوں میں پائی جانیوالی بے چینی میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔اس سلسلے میں حلقہ کے ایم پی اے اور ایم این اے کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔جب تک سرن ویلی کی سڑکوں کی حالت بہتر نہیں ہوتی اسوقت تک علاقہ کی سیاحت کی ترقی اور عوامی خوشحالی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔سرن ویلی کی مین شاہراہ سے متعلق محکمہ سی اینڈ ڈبلیو مانسہرہ کی لاتعلقی کا یہ عالم ہیکہ سڑک پر جہاں جس کا دل چاہے سپیڈ بریکر بنا دے انہیں کوئی بھی پوچھنے والا نہیں۔اسی طرح روزانہ کی بنیاد پر سڑک کی ضروری مرمت کیلیے محکمہ کیطرف سے گینگ تعینات کی گئی ہے جسکی کارکردگی کہیں پر بھی نظر نہیں آتی۔ایسے محسوس ہوتا ہیکہ تعینات گینگ اہلکاران محکمہ کی مٹھی گرم کرکے انکی مکمل آشیر باد حاصل کیے ہوۓ ہیں۔1992 کےسیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد تعمیر ہونے والےجبوڑی بازار سے متعلق بھی محکمہ سی اینڈ ڈبلیو مانسہرہ نے روائتی چشم پوشی اختیار کیے رکھی جسکے نتیجے میں بازار کی گزرگاہ تنگ ہونیکی وجہ سے نہ صرف سیاحوں بلکہ مقامی افراد کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔تنگ بازار میں دائیں بائیں گاڑیوں کی غلط پارکنگ کیوجہ سے بعض اوقات گھنٹوں ٹریفک کی روانی معطل رہتی ہے۔

خاص طور گرمیوں کے دنوں میں ویک اینڈ کے دوران ٹریفک کے دباو میں غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے۔ٹریفک پولیس مانسہرہ نے سیاحوں اور مقامی افراد کی مشکلات کو محسوس کرتے ہوۓ ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کیلیے ٹریفک اہلکار تعینات کیے تھے جس سے عوام کو خاطر خواہ ریلیف حاصل ہوا تھا۔تاہم ٹریفک اہلکاروں کو مستقل بنیادوں پر جبوڑی بازار میں تعینات کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی طرح سیاحوں کی سہولت کیلیے سرن ویلی میں ایمرجنسی ڈیسک کے قیام کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہیکہ سرن ویلی کی سیاحت کو پروان چڑھانے کیلیے ترجیحی بنیادوں پر سڑکوں کی تعمیر ومرمت کو یقینی بنایا جاۓ۔مین شاہراہ کے علاوہ منڈہ گھچہ روڈ ، منڈی روڈ ، آرام گلی ، بانڈہ گیسچ روڈ اور ستھان گلی روڈ کی تعمیر و مرمت میں سیاسی قیادت اپنا کردار ادا کرے اور صوبائی حکومت تعصب کا چشمہ اتار کر سرن ویلی میں سیاحت کے فروغ سے متعلق ہنگامی بنیادوں پر اقدامات عمل میں لاۓ۔

Post a Comment

0 Comments